دریائوں پر آبی ذخائر بنا کر بھارت ہمارے حصے کا پانی روکنے کی سازش کر رہا ہے، بجٹ میں آبی ذخائر کیلئے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے، ارکان قومی اسمبلی
دریائوں پر آبی ذخائر بنا کر بھارت ہمارے حصے کا پانی روکنے کی سازش کر رہا ہے، بجٹ میں آبی ذخائر کیلئے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے، ارکان قومی اسمبلی

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں اراکین نے کہا ہے کہ دریائوں پر آبی ذخائر بنا کر بھارت ہمارے حصے کا پانی روکنے کی سازش کر رہا ہے، بجٹ میں آبی ذخائر کیلئے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے، جنوبی پنجاب کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے الگ صوبہ دیا جائے، پیٹرولیم لیوی کو کم کیا جائے۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بجٹ میں اشرافیہ کو ریلیف دیا گیا ہے، بزنس کلاس اور ڈیبٹ کارڈ پر فائدہ عام آدمی کو نہیں ہو گا۔ رواں مالی سال 850 ارب روپے کا ٹیکس تنخواہ دار طبقہ سے جمع کیا گیا، تھرڈ شیڈول کو وسعت دینے سے 21 کیٹگریز بڑھا دی گئی ہیں، ان میں روزمرہ استعمال کی اشیا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 8483 روپے کمانے والے کی تعریف کی گئی ہے کہ وہ غریب نہیں ہے، اس پر نظرثانی کی جائے۔ اپوزیشن رکن عامر ڈوگر نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کو کم کیا جائے، داسو، مہمند، بھاشاڈیم کے لئے رکھے گئے فنڈز ناکافی ہیں، ہمارا دشمن بھارت ہمارے دریائوں پر آبی ذخیرے بنا رہا ہے۔ صنعت کی بندش سے بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے، سیاسی استحکام اور امن وامان سے معاشی استحکام آتا ہے، سرمایہ کاری ہوتی ہے، زراعت کی ترقی کے لئے اس بجٹ میں کچھ نہیں۔ جنوبی پنجاب کا احساس محرومی دور کرنے کے لئے ہمیں الگ صوبہ دیا جائے۔
ملتان سکھر موٹروے بن گیا، اسی طرح سکھر حیدر آباد موٹر وے کے لئے اس بجٹ میں پیسے رکھے گئے ہیں، اسے جلد شروع کیا جائے۔ ملتان بہاولپور ڈبل روڈ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا، ملتان سے ڈیرہ غازی خان اور ایم ایم منصوبہ مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کو نظر انداز کیاگیا ہے۔








