پاکستان کے 174 فش پروسیسنگ پلانٹس کو چین کے ساتھ برآمدات کے لیے رجسٹر ڈکر لیا گیا ہےجس سے ملکی ماہی گیری کے شعبے کے لیے منڈی تک رسائی میں توسیع اور پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سے ایک کے ساتھ تجارتی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
ایک سو چوہتر پاکستانی فش پروسیسنگ پلانٹس چین کو برآمدات کے لیے رجسٹرڈ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):پاکستان کے 174 فش پروسیسنگ پلانٹس کو چین کے ساتھ برآمدات کے لیے رجسٹر ڈکر لیا گیا ہےجس سے ملکی ماہی گیری کے شعبے کے لیے منڈی تک رسائی میں توسیع اور پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سے ایک کے ساتھ تجارتی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق دوطرفہ زرعی اور غذائی تجارت میں مسلسل اضافے کے باعث چین پاکستانی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی مصنوعات کے لیے تیزی سے ایک اہم منڈی بن کر ابھرا ہے۔
عوامی جمہوریہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کے ساتھ 174 فش پروسیسنگ پلانٹس کی رجسٹریشن سے پاکستانی برآمد کنندگان کی بڑی تعداد کو منظور شدہ ضابطہ جاتی انتظامات کے تحت چینی منڈی میں سی فوڈ مصنوعات کی فراہمی کا موقع ملے گا۔پاکستان نے بین الاقوامی سی فوڈ منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔
یورپی یونین کو برآمدات کی بحالی کے بعد چار پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے برآمد کی گئی مچھلی، کٹل فش اور جھینگوں کی متعدد کھیپیں یورپی یونین کی سرحدوں پر لیبارٹری تجزیے کے 100 فیصد تقاضوں پر پوری اتریں ۔سرکاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے علاوہ 11 پاکستانی فش پروسیسنگ تنصیبات سعودی عرب کو برآمدات کے لیے بھی رجسٹرڈ ہیں جبکہ روس کو برآمدات کے لیے 16 تنصیبات کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ماہی گیری پاکستان کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے جو خصوصاً ساحلی علاقوں میں ہزاروں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ سمندری ماہی گیری کے علاوہ ملک بھر میں دریاؤں، جھیلوں، تالابوں اور ڈیموں میں بھی اندرونِ ملک ماہی گیری کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہ شعبہ زرعی معیشت میں 1.29 فیصد اور پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 0.30 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ مالی سال26-2025کے جولائی تا مارچ عرصے کے دوران مجموعی مچھلی پیداوار 642,180 میٹرک ٹن رہی جس میں 427,180 میٹرک ٹن سمندری ماہی گیری اور 215,000 میٹرک ٹن اندرونِ ملک آبی ذخائر سے حاصل کی گئی۔وفاقی اور صوبائی محکمہ ہائے ماہی گیری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔
ان اقدامات میں توسیعی خدمات کو مضبوط بنانا، جدید ماہی گیری تکنیکوں کا فروغ، ویلیو ایڈڈ سی فوڈ مصنوعات کی تیاری، فی کس مچھلی کے استعمال میں اضافہ اور ماہی گیروں کے سماجی و معاشی حالات میں بہتری شامل ہے۔حکام ڈیپ سی فشنگ پالیسی 2018 کا بھی ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اسے صنعت کی بدلتی ضروریات اور ابھرتے ہوئے برآمدی مواقع سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔








