سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ناصر بٹ کی اپوزیشن پر تنقید، پاکستان کی سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کو حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا
سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ناصر بٹ کی اپوزیشن پر تنقید، پاکستان کی سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کو حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ناصر بٹ نے حکومت کی معاشی، سفارتی اور دفاعی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر اپنا مقام مستحکم کر رہا ہے جبکہ اپوزیشن ملکی مفادات پر سیاست کر رہی ہے۔ سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ بین الاقوامی معاملات میں اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے اور ملک کی خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے پاکستان کا وقار بڑھا ہے اور دنیا پاکستان کے موقف کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا جبکہ سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور پاکستان ترقی کے سفر پر آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مسلح افواج بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے افواج پاکستان ہر وقت تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر پوری قوم کو متحد ہونا چاہئے۔ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ قومی مفاد کے معاملات میں سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کو بیرونی چیلنجز کا سامنا ہو تمام سیاسی قوتوں کو ایک صفحے پر ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ ملک کی معاشی بحالی، دفاعی استحکام اور عوامی فلاح کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی جانب لے جانے کے لیے پرعزم ہے اور آنے والے دنوں میں عوام کو اس کے مثبت نتائج نظر آئیں گے۔ سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور حکومت قومی ترقی کے ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔







