امریکی حملے میں تین بھارتیوں کی ہلاکت پرمودی کی غیرمتوازن خارجہ پالیسی پر بھارت کی اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں۔مودی کی اپنےفائدے کیلئےتیارکی گئی ناقص خارجہ پالیسی پربھارت کے اندر سے بھی سخت سوالات اٹھنے لگے۔عالمی جریدہ دی گارڈین کے مطابق امریکی حملے میں ملاحوں کی ہلاکت پر بھارت میں شدید غصہ کے باوجود مودی حکومت جی 7 سمٹ میں شرکت کر رہی ہے ۔
امریکی حملے میں تین بھارتیوں کی ہلاکت پرمودی کی غیرمتوازن خارجہ پالیسی پر بھارت کی اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):امریکی حملے میں تین بھارتیوں کی ہلاکت پرمودی کی غیرمتوازن خارجہ پالیسی پر بھارت کی اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں۔مودی کی اپنےفائدے کیلئےتیارکی گئی ناقص خارجہ پالیسی پربھارت کے اندر سے بھی سخت سوالات اٹھنے لگے۔عالمی جریدہ دی گارڈین کے مطابق امریکی حملے میں ملاحوں کی ہلاکت پر بھارت میں شدید غصہ کے باوجود مودی حکومت جی 7 سمٹ میں شرکت کر رہی ہے ۔
بھارتی مطالبے کے باوجود بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پرامریکا نے معذرت کرنے سے صاف انکار کر دیا،امریکا کا مؤقف ہے کہ کارروائی ایران پر پابندیوں کی خلاف ورزی اور تیل کی غیر قانونی ترسیل کے خلاف کی گئی،مودی کےزیراثرمیجرجنرل(ر)بخشی نے امریکی حملےمیں بھارتی شہریوں کی ہلاکت پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کےحق میں بیان دے دیا۔بھارتی فوج کےریٹائرڈ میجرجنرل جی ڈی بخشی نےامریکی صدراورمودی پرتنقید کرتےہوئے کہا کہ امریکا نےہمارے تین جہازوں پرحملہ اور3ملاح کو ہلاک کیا تواب ہم ایران کےساتھ کھڑےہیں،بھارتی عوام کی جانیں اتنی سستی نہیں کہ امریکا انہیں نشانہ بناتارہےاورمودی جی سیون سمٹ کی تیاری میں مصروف رہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق نام نہاد خودمختاری کا دعویٰ کرنےوالامودی امریکا کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئےایرانی بندرگاہ چاہ بہارسےبھی پیچھےہٹ گیا تھا۔بھارت کواپنے سامنے جھکانے کے بعد بھی امریکا کا بھارتی بحری جہازوں کونشانہ بنانا مودی کی بدترین خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے۔








