خلع کے بعد عدالتی طور پر ختم ہونے والے نکاح کو دوبارہ متنازع بنانے اور خاتون کی دوسری شادی کو چیلنج کرنے کے لیے فوجداری و سول کارروائی کے مسلسل استعمال کو قانون کے غلط استعمال اور ہراسانی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق شوہر کی اپیل مسترد کر دی
خلع کے بعد دوسری شادی کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا غلط استعمال، سپریم کورٹ کا اپیل خارج کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):خلع کے بعد عدالتی طور پر ختم ہونے والے نکاح کو دوبارہ متنازع بنانے اور خاتون کی دوسری شادی کو چیلنج کرنے کے لیے فوجداری و سول کارروائی کے مسلسل استعمال کو قانون کے غلط استعمال اور ہراسانی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق شوہر کی اپیل مسترد کر دی ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ خلع کے بعد عدت کی تکمیل کے ساتھ نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل قانونی حق حاصل ہوتا ہےجبکہ ایسے معاملات میں بلاجواز قانونی کارروائی کا استعمال عدالت کے عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سی پی ایل اے نمبر 303-پی/2018 میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر خلع کے قانونی جواز کا نہیں تھا کیونکہ فیملی کورٹ پہلے ہی 13 ستمبر 2014ء کو فریقین کا نکاح خلع کے ذریعے ختم کر چکی تھی اور عدت کی تکمیل کے بعد قانونی رشتہ ختم ہو چکا تھا۔
فیصلے کے مطابق سابق شوہر کی جانب سے بار بار عدالتوں سے رجوع کرنا، پولیس اور مجسٹریٹ کے ذریعے کارروائی کی کوششیں اور بیوی کی دوسری شادی کو غیر قانونی ثابت کرنے کی کوششیں قانون کے عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہیں۔عدالت نے کہا کہ خلع اسلامی قانون اور ملکی فیملی لاز کے تحت عورت کا تسلیم شدہ حق ہے اور اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی مجاز ہوتی ہے جس میں سابق شوہر کی رضامندی یا منظوری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ 22-اے سی آر پی سی کے تحت کی گئی شکایت اور دیگر درخواستیں پہلے ہی متعلقہ عدالتوں سے مسترد ہو چکی تھیں، اس کے باوجود دوبارہ اسی نوعیت کے الزامات کے ساتھ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا غیر ضروری اور بے بنیاد تھاسپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عدالتیں کسی بھی فریق کو دوسرے فریق کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنانے، ساکھ متاثر کرنے یا دبائو ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتیں۔عدالت نے مزید کہا کہ ایسے مقدمات نہ صرف خواتین کے وقار اور سماجی حیثیت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عدالتی نظام کے وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ بار بار بے بنیاد اور ہراسانی پر مبنی مقدمات دائر کرنا نہ صرف قانونی عمل کا غلط استعمال ہے بلکہ یہ عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے مترادف بھی ہے۔سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جو 30 دن میں خاتون کو ادا کرنا ہوگا، بصورت دیگر وصولی کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی۔








