سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل 2026 پر غور، نجی املاک کے حقوق سے متعلق شقوں کا مزید جائزہ لینے کا فیصلہ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل 2026 پر غور، نجی املاک کے حقوق سے متعلق شقوں کا مزید جائزہ لینے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل 2026 پر تفصیلی غور کیا اور نجی املاک کے حقوق سے متعلق شقوں کا مزید جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹرز ندیم احمد بھٹو، ڈاکٹر افنان اللہ خان، سعدیہ عباسی سمیت وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سینئر حکام، متعلقہ اداروں کے نمائندگان اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ایکٹ 1996 میں مجوزہ ترامیم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) (ترمیمی) بل 2026 پر تفصیلی غور کیا جو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مجوزہ ترامیم بنیادی طور پر تین شعبوں پر مشتمل ہیں جن میں ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے اصولوں کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی توسیع اور سہولت کاری اور ریگولیٹری فریم ورک میں آپریشنل کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد فائبر نیٹ ورک بچھانے کے لیے رائٹ آف وے سے متعلق طریقہ کار کو آسان بنانا، تنازعات کے حل کے نظام کو مضبوط کرنا، قومی ڈیجیٹل رابطہ کاری کے اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرنا اور وفاقی و صوبائی حکام کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ان ترامیم کا مقصد ملک بھر میں فائبر کی رسائی میں تیزی لانا اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی توسیع کو فروغ دینا ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے ’’مناسب حکومت‘‘ (Appropriate Government) کے اختیارات، نفاذ سے متعلق شقوں میں صوابدیدی اختیارات کے استعمال اور نجی املاک کے حقوق پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹرز نے زور دیا کہ کسی بھی فرد کو واضح قانونی تحفظات، باہمی رضامندی کے طریقہ کار اور شفاف تنازعاتی حل کے نظام کے بغیر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب کی اجازت دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ارکان نے بالخصوص زمین تک رسائی، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب اور رائٹ آف وے سے انکار کی صورت میں عائد کی جانے والی سزائوں کی تشریح سے متعلق شقوں پر سوالات اٹھائے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے نمائندوں نے واضح کیا کہ مجوزہ فریم ورک نجی املاک کے جبری حصول یا قبضے کی اجازت نہیں دیتا اور انفراسٹرکچر کی تنصیب باہمی معاہدوں، قانونی تقاضوں اور متعین تنازعاتی حل کے طریقہ کار کے تحت ہی کی جائے گی۔حکام نے یقین دہانی کرائی کہ نجی ملکیت کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے اور ایسی شقوں یا الفاظ کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا جو ابہام پیدا کر سکتے ہیں۔
وزارت نے مزید بتایا کہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے نوٹسز، سماعتوں اور انتظامی نظرثانی کے طریقہ کار کو مجوزہ قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔کمیٹی نے مجوزہ فریم ورک کے تحت ادارہ جاتی تنظیمِ نو اور تقرریوں سے متعلق گورننس کی شقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ عبوری انتظامات اور تفویض کردہ اختیارات شفاف اور مقررہ مدت کے پابند ہونے چاہئیں۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بل پر مزید کارروائی مؤخر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں اس کا شق وار جائزہ جاری رکھا جائے گا۔








