چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کپیٹل مارکیٹ میں جامع اصلاحاتی ایجنڈے کا اعلان

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے پاکستان کی کپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد کو 25لاکھ تک بڑھانے ، مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لئے نئی پراڈکٹ کے اجراء، نوجوانوں میں مالیاتی خواندگی کے فروغ اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی ترقی کے لئے ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے

کراچی۔16جون (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے پاکستان کی کپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد کو 25لاکھ تک بڑھانے ، مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لئے نئی پراڈکٹ کے اجراء، نوجوانوں میں مالیاتی خواندگی کے فروغ اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی ترقی کے لئے ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے پہلے دورے کے موقع پر گونگ بجا کر کاروبار کے آغاز کرنے کے بعد اپنے خطاب میں ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ ایس ای سی پی کا ہدف سرمایہ کاروں کی تعداد کو مرحلہ وار بڑھا کر 25 لاکھ تک لے جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص نوجوانوں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا، بچت کے رجحان کو فروغ دینا اور کاروبار کے لئے سرمائے کی مارکیٹ میں عوامی شمولیت بڑھانا کسی بھی ملک کی پائیدار معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ مالیاتی خواندگی کیپٹل مارکیٹس میں عوامی شرکت بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، ہم نوجوان پاکستانیوں کو سرمایہ کاری اور سرمائے کے حصول کے مواقع فراہم کرنے کے لئے آسان اور قابلِ رسائی تعلیمی پروگرام متعارف کرا رہے ہیں۔چیئرمین ایس ای سی پی نے بتایا کہ کمیشن کا اصلاحاتی ایجنڈا افراد، نظام اور ٹیکنالوجی کے تین بنیادی ستونوں پر مبنی ہے۔

اس سلسلے میں انسٹیٹیوٹ آف فنانشل مارکیٹس آف پاکستان (آئی ایف ایم پی ) کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، مختصر آن لائن مالیاتی تربیتی کورسز متعارف کرائے جائیں گے، ملک بھر میں نوجوانوں کے لئے آگاہی پروگرام چلائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی آن بورڈنگ کو مزید آسان بنایا جارہا ہے۔انہوں نے انشورنس شعبے میں جاری اصلاحات کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انشورنس کا نیا قانون کا مسودہ پالیمنٹ و بھجوا دیا گیا ہے ۔ نیا قانون اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، کمپٹیشن بڑھانے اور انشورنس کی شمولیت میں اضافے میں معاون ہو گا۔اس موقع پر پی ایس ایکس کے منیجنگ ڈائریکٹر فرخ ایچ سبزواری نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 20 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران 11 آئی پی اوز کامیابی سے مکمل ہوئے، جو گزشتہ 25 برسوں میں تیسری بلند ترین تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایکس میں منفرد سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ کر 5 لاکھ 63 ہزار ہو گئی ہے جبکہ نوجوان سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شرکت مارکیٹ کے روشن مستقبل کی عکاس ہے۔ایس ای سی پی کے کمشنر علی فرید خواجہ نے کہا کہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ نے مقامی اور عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام، ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد نے مارکیٹ کی حالیہ کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کے تسلسل، سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافے اور مارکیٹ انفراسٹرکچر کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے سے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہوں گی۔ تقریب کے بعد ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اجلاس میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی مستقبل کی ترقی سے متعلق اہم اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے چینی اور سعودی مارکیٹس سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs)، جی ای ایم بورڈ پر نئی کمپنیوں کی فہرست سازی، ڈیریویٹیوز مصنوعات کے فروغ اور مارکیٹ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں پی ایس ایکس، سی ڈی سی اور این سی سی پی ایل کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے، انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے اور اوورسیز پاکستانیوں و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ کی جانب راغب کرنے کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے بورڈ کو تمام اقدامات کی تکمیل اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی مزید ترقی کے لئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔