بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ناقص و مضرِ صحت خوراک کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے ایک واٹر پلانٹ سیل جبکہ 33 خوراک کے مراکز کو جرمانے کیے ہیں
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، ایک واٹر پلانٹ سیل، 33 خوراک کے مراکز کو جرمانے

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 16 جون (اے پی پی):بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ناقص و مضرِ صحت خوراک کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے ایک واٹر پلانٹ سیل جبکہ 33 خوراک کے مراکز کو جرمانے کیے ہیں۔کوئٹہ سمیت حب، لورالائی اور اوستہ محمد میں ریسٹورنٹس، بیکنگ یونٹس، بیکریز، فاسٹ فوڈ پوائنٹس، جنرل اسٹورز، واٹر پلانٹس، ڈیری فارمز اور آئس فیکٹریوں کے معائنے کے دوران مجموعی طور پر ایک واٹر پلانٹ سیل، 33 فوڈ کاروباروں کو جرمانے جبکہ 18 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کوئٹہ کے مختلف علاقوں سریاب روڈ، بھوسہ منڈی، ڈبل روڈ، ایئرپورٹ روڈ، جی او آر کالونی، کلی شابو، مشن روڈ، طوغی روڈ، شاوکشاہ روڈ، فقیر محمد روڈ، گوردت سنگھ روڈ، مسجد روڈ، اسپنی روڈ، جبل نور اور گردونواح میں قائم خوراک کے مراکز کی چیکنگ کے دوران ایک واٹر پلانٹ کو پراڈکٹ رجسٹریشن نہ ہونے جبکہ مختلف برانڈز کے لیبل استعمال کرنے اور ضابطہ کار کی سنگین خلاف ورزیوں پر سیل کر دیا گیا جبکہ متعدد ریسٹورنٹس، بیکنگ یونٹس، پیزا پوائنٹس، واٹر پلانٹس، نمکو یونٹس، آئس کریم شاپس، بیکریز، نان شاپس اور دیگر مراکز کو جرمانے عائد کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران زائد المعیاد اشیا، خراب گوشت، ممنوعہ چائنیز نمک، مضر صحت رنگوں کا استعمال، آلودہ اور غیر صحت بخش پانی سے برف کی تیاری، ناقص صفائی، کھلے کوڑے دان، حشرات کی موجودگی، زنگ آلود ریفریجریٹرز و کنٹینرز، نکاسی آب کے ناقص انتظامات، فوڈ بزنس لائسنس کی عدم دستیابی، غیر رجسٹرڈ مصنوعات اور اشیا پر مینوفیکچرنگ و زائد المعیاد تاریخوں کے اندراج نہ ہونے جیسے سنگین نقائص سامنے آئے۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عوام کی بہتر صحت کیلئے محفوظ خوراک کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خوراک کے کاروبار سے منسلک ورکرز خصوصا مراکز مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے قوانین، صفائی و حفظانِ صحت کے اصولوں اور فوڈ سیفٹی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں بصورت دیگر خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔








