لاہور۔16جون (اے پی پی):پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال2026-27 کیلئے5903 ارب46 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمن نے منگل کے روز بجٹ پیش کیا جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں10.7 فیصد زیادہ ہے،بجٹ میں جاری اخراجات کا تخمینہ 1962 ارب93 کروڑ روپے ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں3.1 فیصد کم ہے۔اگلے مالی سال کیلئے صوبائی آمدن کے حصول …
پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کیلئے بجٹ پیش کر دیا

مزید خبریں
لاہور۔16جون (اے پی پی):پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال2026-27 کیلئے5903 ارب46 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمن نے منگل کے روز بجٹ پیش کیا جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں10.7 فیصد زیادہ ہے،بجٹ میں جاری اخراجات کا تخمینہ 1962 ارب93 کروڑ روپے ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں3.1 فیصد کم ہے۔اگلے مالی سال کیلئے صوبائی آمدن کے حصول کا ہدف 1209 ارب86 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے،اس ضمن میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کا 528 ارب 50 کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو کہ مالی سال 2025-26 کے مقابلے میں 55.4 فیصد زائد ہے،بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس وصولی کا ہدف 86 ارب 19 کروڑ روپے مقرر کیا جا رہا ہے،اگلے مالی سال کیلئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو124 ارب روپے کا ہدف کا دیا گیا ہے جو کہ رواں مالی سال کی نسبت77 فیصد زائد ہے۔اسی طرح صوبائی نان ٹیکس محصولات کا تخمینہ461 ارب 17 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو کہ 2025-26 کی نسبت 52 فیصد زیادہ ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کے لیے4390 ارب 94 کروڑ روپے کی منتقلی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کی نسبت8.1 فیصد زیادہ ہے۔صوبائی محصولات میں اضافہ اور Expenditure Rationalization کی پالیسی کے باعث تر قیاتی بجٹ کیلئے752 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔مجموعی طور پر ٹیکس اور نان ٹیکس وسائل سے828 ارب کے ہدف میں سے 820 ارب 16کروڑ روپے حاصل کر لئے جائیں گے،اس میں پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے ) کے ذریعے340 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 370 ارب روپے اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے70 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں77 ارب 22کروڑ روپے کی وصولی متوقع ہے۔اسی طرح مالی سال 2026-27 میں فارن فنڈڈ پروگرام لونز کی مد میں49 ارب 84 کروڑ روپے اور فارن پراجیکٹ لونز کی مد میں140 ارب 6 کروڑ روپے کی وصولیاں ہوں گی۔
مالیاتی فریم ورک کی پاسداری کے لیے Estimated Provincial Surplus کی مد میں910 ارب روپے بھی اس بجٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔اگلے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے تنخواہوں کا خرچہ 1.4 فیصد بڑھ کر638 ارب 93 کروڑ روپے ہو گا جو کہ حکومت کی Rightsizing پالیسی کا نتیجہ ہے۔اگلے مالی سال میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں3.5 فیصد اضافہ تجویز کیا جا رہا ہے جس سے صوبے کے پنشن اخراجات500 ارب 12 کروڑ روپے ہوں گے۔عوام کو گراس روٹ لیول پر خدمات فراہم کرنے کی غرض سے پی ایف سی ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں کے لیے 5.2 فیصد اضافے کے ساتھ803 ارب88 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ Service Delivery Expenditure کی مد میں 783 ارب 62 کروڑ روپے ہو گا جس میں 578 ارب62 کروڑ روپے اداروں کے روزمرہ کے اخراجات کا ہے جو کہ حکومت کے موثر اقدامات کے سبب پچھلے مالی سال کی نسبت 5.1 فیصد کم ہے۔
اسی طرح کرنٹ کیپٹل اخراجات کی مد میں679 ارب1 کروڑ روپے بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنانے کی تجویز کی جا رہی ہے۔حکومتِ پنجاب نے مالی استحکام اورSmart Governance کے ذریعے جامع اصلاحات متعارف کروائیں، Cash Management Fund کو800 ارب روپے سے بڑھا کر مالی سال2026-27 میں1200 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس سے صوبے کو اضافی منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمن نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کے نتیجے میں جہاں دنیا کا امن دائو پر لگا تھا، وہیں مہنگائی کے عالمی زلزلے نے دنیا کی معیشت کی بنیادیں ہلا دیں۔وزیراعلی مریم نواز شریف کے بروقت اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب نے مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کا بنیادی ستون بنایا۔ سرکاری اخراجات میں کمی کی، Board Meeting Fees پر پابندی لگائی، آن لائن اجلاسوں کو فروغ دینے کے اقدامات کئے۔
وزیراعلی معاونین خصوصی، پارلیمانی سیکریٹریز نے تین ماہ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹ قبول کی، کاروں کے استعمال پر پابندی کے ان اقدامات میں بھرپور تعاون پر میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 9 ارب 78 کروڑ روپے کے ریلیف سے4 کروڑ74 لاکھ افراد مستفید ہوئے،عوام کو سستا پٹرول فراہم کرنے کیلئے حکومت پنجاب نے وفاقی حکومت کو 25ارب87کروڑ روپے مہیا کئے،صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ سال2025 کے دوران شدید بارشوں اور تین دریائوں میں بیک وقت آنے والے تاریخی سیلاب نے پنجاب کے 27 اضلاع متاثر کئے۔
وزیراعلی مریم نواز شریف نے خود میدان میں نکل کر سیلاب متاثرہ بھائیوں کی امداد اور بحالی کے تاریخ کے سب سے بڑے ریسکیو پروگرام پر79 ارب 78 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ21 لاکھ افراد کو 50 ارب روپے کی براہ راست مالی معاونت فراہم کی گئی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے سیلاب کو محض ایک آفت سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے سبق سیکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کا آغاز کیا جس کے تحت پی ڈی ایم اے کو جدید خطوط پر استوار کیا،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی مکمل میپنگ کی گئی اور آب و ہوا کی تمام پہلوئوں کا جدید انداز سے جائزہ لیا گیا۔ Flood Resilient Infrastructure کی تعمیر کو ترجیح بنایا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمن نے کہا کہ آج پنجاب کے شہری کی دہلیز پر40 ارب کے رمضان نگہبان پیکج کی طرح دستک، E-Biz اور E-Pay اور E-Pads جیسے اقدامات سے سرکاری دفاتر کی خدمات بھی فراہم ہو رہی ہیں۔دستک پروگرام کے تحت29 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوئے، E-Biz کے ذریعے320 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائز کیا گیا جس سے81 ہزار سے زائد کاروباری افراد نے فائدہ اٹھایا۔
اگلے مالی سال کے دوران قومی سطح پر مالی مشکلات،دفاعِ وطن کے تقاضوں،ڈیموں کی تعمیر اور قرض کی واپسی جیسے قومی اہمیت کے منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کو 1035 ارب روپے میں سے زیادہ سے زیادہ546 ارب روپے پنجاب فراہم کرے گا۔الحمدللہ پنجاب معاشی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ پاکستان کی ڈھال بھی ہے۔معاشی بد حالی اور شدید بد انتظامی سے دوچار صوبہ پنجاب کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد گزشتہ دو سال میں ہماری حکومت نےِ سخت مالیاتی نظم وضبط قائم کیا۔محکموں کی Rightsizing کرتے ہوئے جہاں 1 لاکھ سے زائد غیر ضروری آسامیاں ختم کر کے صوبائی اداروں پر بوجھ کم کیا جبکہ 4 لاکھ سے زائد شہریوں کو میرٹ پر نو کریاں دی گئیں۔نئے اداروں کے قیام کے ساتھ عوامی خدمت میں اصلاح کی گئی۔غیرمعمولی حالات میں مالی سال 2026-27 کی بجٹ سازی میں مشکلات کے باوجود وزیراعلی مریم نواز شریف نے درپیش معاشی چیلنجز کے لیے سماجی شعبے اور عوام کے منصوبوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔حکومت نے فیصلہ کیا کہ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر ترقی کے راستے تلاش کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کی سیلف اسسمنٹ سکیم کے تحت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے5 فیصد رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیےالیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی چھوٹ95 سے بڑھا کر 99 فیصد کی جا رہی ہے۔زرعی ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور سہولت کے لیے فکسڈ ٹیکس سٹرکچر کے تحت اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں اور کاٹن فیس کو ختم کر دیا گیا ہے۔جس سے ہم کسانوں اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے معاشی مشکلات کو ترجیح دیتے رہیں گے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ تقریبا13 کروڑ آبادی کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا قومی جی ڈی پی میں55.7 فیصد حصہ ہے۔ہماری ملازمت یافتہ افرادی قوت3 کروڑ58 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور سب سے اہم پنجاب کی فی کس آمدنی 1904 ڈالر ہے جو گزشتہ3 سال کے مقابلے میں 47 فیصد زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت یقین رکھتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری، مہارتیں اور تکنیکی صلاحیتیں فراہم کرنا لازم ہے۔حکومت نے بنیادی انفراسٹرکچر، سہولت کاری، پالیسی معاونت اور رسک شیئرنگ کے ذریعے نجی شعبے کی ترقی کو ممکن بنانے کا کام کیا ہے۔
پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی ری سٹرکچرنگ اور اصلاحات کے بعد جو نکات پیش کئے گئے ان میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے انتہائی مثبت ردعمل آیا ہے جو کہ جامع حکومت کی عملی کامیابی کا نتیجہ ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ قائد محمد نواز شریف کی راہنمائی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی تاریخ ساز اور پر خلوص ثالثی کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے،جس پر میں معزز ایوان کو اپنے قائد محمد نواز شریف،وزیراعظم محمدشہباز شریف، نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار اور خاص طور پر فخرِ پاکستان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں جن کی دانائی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پوری قوم کو مبارک ہو جس کی دعائیں رنگ لائیں اور عالمی معرکے میں بھی پاکستان فاتح بن کر ابھرا۔اندرون اور بیرون ملک آج ہر پاکستانی کا سرفخر سے بلند ہے۔







