سینیٹر دوست علی جیسر نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ میں پاکستان کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔
ایران -امریکہ امن معاہدہ میں پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے، سینیٹر دوست علی جیسر

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):سینیٹر دوست علی جیسر نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ میں پاکستان کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔ بدھ کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سب سے پہلے اس سفارتی پیشرفت کو پاکستان اور خطے کیلئے ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت تمام متعلقہ شخصیات کو مبارکباد پیش کی۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قومی یکجہتی سے متعلق یہ بات قابل ستائش ہے کہ اگر ملک کے پاس ایک روٹی بھی ہو تو اسے تمام صوبوں میں برابر تقسیم کیا جانا چاہئے تاہم سندھ اس وقت شدید آبی بحران کا شکار ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ سندھ میں آبپاشی کے پانی کی تقریباً 50 فیصد کمی کا سامنا ہے جبکہ گڈو بیراج پر 42 فیصد، سکھر بیراج پر 45 فیصد اور کوٹری بیراج پر 62 فیصد پانی کی قلت ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران بھی پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر تمام تر انحصار فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر کیا گیا ہے حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتیں سیلز ٹیکس اور سروسز ٹیکس کی وصولیوں میں اپنے اہداف سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں، اس لئے ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے وفاقی اخراجات میں کمی پر زور دیا۔ زرعی شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں تقریباً 25 فیصد حصہ رکھنے والے شعبہ زراعت کو ناکافی سہولیات اور محدود سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کھاد اور زرعی ضروریات پر سبسڈی میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔انہوں نے توانائی کے شعبے کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دیہی علاقوں کی بڑی آبادی مسلسل لوڈشیڈنگ کا شکار ہے جس سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 19 فیصد اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے غریب اور کم آمدن والے طبقے کیلئے امید کی کرن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے بھی اس پروگرام کو ایک کامیاب سماجی تحفظ کے ماڈل کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے سکھر-حیدرآباد موٹروے منصوبے کے لئے مختص فنڈز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں موٹروے انفراسٹرکچر کی کمی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور اس منصوبے کے لئے مزید وسائل فراہم کئے جانے چاہئیں۔








