راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے زیر اہتمام وفاقی بجٹ 2026 کے بعد ایک خصوصی پوسٹ بجٹ سیشن منعقد ہوا۔جس میں کاروباری برادری، چیمبر ممبران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی
راولپنڈی: وفاقی بجٹ 2026 پر آر سی سی آئی کا پوسٹ بجٹ سیشن

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 17 جون (اے پی پی):راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے زیر اہتمام وفاقی بجٹ 2026 کے بعد ایک خصوصی پوسٹ بجٹ سیشن منعقد ہوا۔جس میں کاروباری برادری، چیمبر ممبران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی بجٹ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔تقریب کے مہمان خصوصی معروف اینکر پرسن اور تمغۂ امتیاز یافتہ عادل عباسی تھے۔ اس موقع پر آر سی سی آئی کی قیادت اور ممبران نے میڈیا کے شعبے میں ان کی خدمات اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو سراہا۔آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت نے بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کے لیے دی جانے والی ٹیکس رعایتوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت 88 ارب روپے مختص کرنے کے حکومتی اقدام کو بھی مثبت قرار دیا، تاہم کہا کہ اگر پاکستان برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس فنڈ میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔ آر سی سی آئی کے گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ بجٹ میں بعض حوصلہ افزا اقدامات شامل ہیں، تاہم صنعتی شعبے کی بحالی کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی حکمت عملی کا فقدان ہے۔ انہوں نے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے نفاذ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے عملی طریقہ کار کو مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار صنعتی ترقی کا براہ راست تعلق برآمدات کی مضبوط کارکردگی سے ہے، لہٰذا حکومت کو طویل المدتی معاشی استحکام اور ترقی کے لیے مستقل اور برآمدات دوست پالیسیوں کو ترجیح دینی چاہیے۔








