وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں زراعت، لائیو سٹاک، غذائی تحفظ، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیرصدارت جرمن سفیر اینا لیپل کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس، زراعت، لائیو سٹاک، غذائی تحفظ، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں زراعت، لائیو سٹاک، غذائی تحفظ، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جرمن وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات اور زرعی شعبے میں جاری تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار زرعی ترقی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہے تاہم فی ایکڑ پیداوار اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت زرعی تحقیق، معیاری و تصدیق شدہ بیجوں کے فروغ، زرعی مشینی نظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ نئی اقسام کے بیجوں کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لائیو سٹاک شعبہ زرعی معیشت کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے، اس لیے مویشیوں کی نسل کشی میں بہتری، جدید تولیدی ٹیکنالوجیز، جانوروں کی خوراک کی تیاری اور منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) کی ویکسین کی پیداوار کے شعبوں میں جرمنی کے ساتھ تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے جرمن اداروں اور کمپنیوں کو ڈیری سیکٹر کی جدیدکاری، زرعی مشینی نظام، فوڈ پروسیسنگ اور جدید سلاٹر ہائوسز کے قیام میں تعاون کی دعوت بھی دی۔رانا تنویر حسین نے وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان اپنی پہلی بائیوٹیکنالوجی پالیسی متعارف کروا رہا ہے جس سے زرعی تحقیق، جدت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے ٹریس ایبلٹی سسٹمز، غذائی تحفظ کے معیارات اور ڈبلیو ٹی او کے ایس پی ایس تقاضوں کے مطابق تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔جرمنی کی سفیر اِینا لیپل نے پاکستان کی جانب سے زرعی شعبے کی جدیدکاری کے اقدامات کو سراہتے ہوئے زراعت، موسمیاتی موافقت، لائیو سٹاک اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے پاکستان کی مجوزہ بائیوٹیکنالوجی پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ متعدد جرمن کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) اور اینیمل ہسبنڈری کمشنر ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان زرعی تعاون کی طویل تاریخ کو اجاگر کرتے ہوئے مشترکہ تحقیق، استعداد کار میں اضافے اور مویشیوں کی نسل کشی کی جدید ٹیکنالوجیز میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جرمنی سے اعلیٰ معیار کے ایمبریوز اور سیمین کی درآمد کے ذریعے مقامی نسلوں کی بہتری اور مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔اجلاس میں زرعی تحقیق، زرعی مشینی نظام، موسمیاتی لحاظ سے موافق زراعت، لائیو سٹاک جینیات، پانی کے موثر استعمال کی ٹیکنالوجیز، غذائی معیار اور ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے پائیدار زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور باہمی اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔








