پاکستان پوسٹ کی بین الاقوامی پارسل سروس اب دنیا بھر کے 204 ممالک اور خطوں تک خدمات فراہم کر رہی ہے
پاکستان پوسٹ کی بین الاقوامی پارسل سروس کا دائرہ 204 ممالک تک وسیع

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):پاکستان پوسٹ کی بین الاقوامی پارسل سروس اب دنیا بھر کے 204 ممالک اور خطوں تک خدمات فراہم کر رہی ہے، جو عالمی روابط کے فروغ، لاجسٹکس سروسز کی بہتری اور سرحد پار تجارت کے فروغ کے لیے ادارے کی کوششوں کا عکاس ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، بین الاقوامی پارسل سروس پاکستان پوسٹ کے اہم آمدنی پیدا کرنے والے شعبوں میں شامل ہے۔ اس سروس کے ذریعے 30 کلوگرام تک وزن کے پارسل دنیا کے 204 مقامات تک بھیجے جا سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی ڈاکی خدمات کے دائرہ کار میں توسیع سے کاروباری اداروں اور افراد کو بیرون ملک منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ای کامرس اور سرحد پار تجارت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
پاکستان پوسٹ نے بین الاقوامی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نجی کوریئر کمپنیوں کے ساتھ بھی شراکت داری قائم کی ہے۔ ادارے کی ای ایم ایس پلس سروس کے ذریعے اب 238 بین الاقوامی مقامات تک تیز رفتار ترسیل کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس میں پارسل کی نگرانی (ٹریک اینڈ ٹریس) اور دو سے پانچ دن کے اندر ترسیل شامل ہے۔اس کے علاوہ پاکستان پوسٹ کی ایکسپریس میل سروس (ای ایم ایس)، جو ایک پریمیم بین الاقوامی ڈاکی سروس ہے، اس وقت 36 ممالک اور خطوں تک خدمات فراہم کر رہی ہے اور تقریباً 200 ممالک و خطوں پر مشتمل عالمی نیٹ ورک سے منسلک ہے۔رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی خط و کتابت کی خدمات 24 ممالک اور خطوں تک دستیاب ہیں، جن کے ذریعے دو کلوگرام تک وزن کے عام اور رجسٹرڈ خطوط یونیورسل سروس آبلیگیشن کے تحت ارسال کیے جا سکتے ہیں۔پاکستان پوسٹ اس وقت ملک بھر میں 9,695 ڈاک خانوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے شپنگ، ترسیل اور کوریئر خدمات فراہم کر رہی ہے۔
ادارے نے جدیدکاری کے اقدامات کے تحت 29 شہروں میں "سیم ڈے ڈلیوری سروس” بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے دوپہر سے قبل بک کرائے گئے دستاویزات اور پارسل اسی روز پہنچائے جاتے ہیں۔ اس سروس کو مزید شہروں تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ادارے نے صارفین کی سہولت کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے ٹیرف معلومات، پوسٹل کوڈز، ڈاک خانوں کا پتہ، شکایات کا اندراج، ٹریک اینڈ ٹریس اور پارسل پک اپ کی درخواست جیسی سہولیات حاصل کی جا سکتی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان پوسٹ نے امریکا اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی تقاضوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے ملکی اور بین الاقوامی آئی ٹی نظام میں جامع بہتری کی ہے۔اہم اصلاحات میں انٹرنیشنل پوسٹل سسٹم (آئی پی ایس) کی جدیدکاری، ترسیلات کی بہتر نگرانی کے لیے ایئرلائن سسٹمز کے ساتھ انضمام، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ایڈوانس ڈیٹا فیچرز کا نفاذ شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) نے 2025 میں پاکستان پوسٹ کی درجہ بندی پوسٹل ڈویلپمنٹ لیول 5 سے بڑھا کر لیول 6 کر دی۔پاکستان پوسٹ بین الاقوامی تعاون کو بھی وسعت دے رہی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ادارے نے بیلاروس پوسٹ اور کارپوسٹ کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دے دی ہے، جبکہ چائنا پوسٹ، ترکیہ پوسٹ، کرغزستان پوسٹ اور امارات پوسٹ کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں پر کام جاری ہے۔برآمدات میں سہولت کے لیے پاکستان پوسٹ، پاکستان کسٹمز اور پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ پاکستان پوسٹ، پی ایس ڈبلیو اور پاکستان کسٹمز پر مشتمل مشترکہ ورکنگ ٹیم کسٹمز ڈیکلریشن سسٹم (سی ڈی ایس) کو وی بوک کے ساتھ مربوط کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ ڈاکی تجارت کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیرآباد ہیڈ پوسٹ آفس میں کسٹمز اور انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) کے تعاون سے ایک فارن پوسٹ آفس بھی قائم کیا جا رہا ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی برآمدات میں سہولت ملے گی۔پاکستان پوسٹ ویسٹرن یونین کے ساتھ ایجنسی معاہدے کے تحت 469 ڈاک خانوں کے ذریعے بین الاقوامی ترسیلاتِ زر کی خدمات بھی فراہم کر رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کی جنوری تا مارچ مدت کے دوران اس نیٹ ورک نے 29,728 لین دین مکمل کیے، 1.86 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں اور 75 لاکھ روپے آمدنی حاصل کی۔








