پاکستان کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی،سندھ ہائی کورٹ کاسرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے نیب کااقدام برقرار رکھنے کا حکم
پاکستان کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی،سندھ ہائی کورٹ کاسرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے نیب کااقدام برقرار رکھنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):پاکستان کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی،سندھ ہائی کورٹ نے سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے نیب کے اقدام کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے جو پاکستان کے عوام کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے جس کے تحت کراچی کی 800 ایکڑ قیمتی سرکاری زمین کو قبضہ مافیا کے چنگل سے چھڑا لیا گیا ہے۔ نیب کے ترجمان کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق 18 جون 2026 کو، سندھ ہائی کورٹ نے زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کو مسترد کر دیا۔عدالت نے ان کی الاٹمنٹ کو شروع ہی سے کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب کے اس زمین کو واگزار کرانے کے اقدام کو قانونی اور درست قرار دیا ہے۔
یہ کراچی کے سب سے بڑے لینڈ سکینڈلز میں سے ایک تھا۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں اربوں روپے مالیت کی 800 ایکڑ سرکاری زمین پر کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے، جعلی دعووں اور کاغذات کے ذریعے قبضہ کر لیا گیا تھا۔ یہ زمین خاموشی سے نجی ہاتھوں میں منتقل کر کے بھاری منافع پر فروخت کر دی گئی، حالانکہ اس زمین کے کچھ حصوں پر کراچی کو پانی فراہم کرنے والی تنصیبات موجود ہیں اور کچھ حصے عوامی پارکوں کے لیے مختص تھے۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر کی قیادت میں نیب نے سندھ بورڈ آف ریونیو کے ساتھ مل کر کام کیا اور تمام جعلی ریکارڈز کو منسوخ کروا کر زمین کو دوبارہ سرکاری تحویل میں لے لیا۔اس کے جواب میں، قبضہ کرنےوالوں نے سندھ ہائی کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ انہیں سنا نہیں گیا اور وہ زمین کے خریدار ہیں ۔
عدالت نے ان تمام عذروں کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ جو بنیاد ہی غیر قانونی ہو، اس پر کھڑی عمارت بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ عدالت نے نیب کے اقدام کو درست قرار دیا اور خریداروں کو ہدایت کی کہ اگر ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے انہیں یہ چوری شدہ زمین بیچی، نہ کہ ریاست کے خلاف۔یہ فیصلہ ملک بھر کے قبضہ مافیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ چوری شدہ سرکاری زمین واپس لی جائے گی اور اس کے اصل حقدار، یعنی پاکستان کے عوام کو لوٹائی جائے گی۔نیب کے ترجمان نے کہا کہ یہ زمینیں کراچی کے پانی کی تنصیبات اور عوامی پارکوں پر مشتمل ہیں اور یہ عوام کی ملکیت ہیں۔ دھوکہ دہی سے ہتھیائی گئی سرکاری زمین کے ایک ایک انچ کا حساب لیا جائے گا، قبضے کا دور ختم ہو چکا ہے۔








