ایف آئی اے کا غیر قانونی ہجرت کے خلاف گھیرا تنگ، یورپ جانے کی غیر قانونی کوششوں میں 47 فیصد کمی

بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں ہر سال ہزاروں پاکستانی شہری انسانی سمگلروں کے جال میں پھنس کر غیر قانونی زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم یہ خطرناک سفر اکثر مالی تباہی، قید، تشدد اور موت پر منتج ہوتا ہے

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں ہر سال ہزاروں پاکستانی شہری انسانی سمگلروں کے جال میں پھنس کر غیر قانونی زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم یہ خطرناک سفر اکثر مالی تباہی، قید، تشدد اور موت پر منتج ہوتا ہے۔’’ڈنکی‘‘ کے نام سے معروف اس غیر قانونی راستے کی ہولناک حقیقت ایک بار پھر 2026 میں سامنے آئی جب حکومت پاکستان کی کوششوں سے لیبیا میں زیر حراست 200 سے زائد پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں پاکستان کےسفارتخانے اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں طرابلس کے تاجورہ حراستی مرکز سے 30 پاکستانی شہریوں کو بازیاب کرایا گیا۔ بعد ازاں مئی کے آخر میں ایک خصوصی پرواز کے ذریعے بن غازی اور طرابلس کے مختلف حراستی مراکز میں موجود 177 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد کو لیبیا کے حکام نے بحیرہ روم عبور کرنے کے لئے استعمال ہونے والی خستہ حال اور گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں میں سوار ہونے سے قبل گرفتار کر لیا تھا۔انسانی سمگلنگ کے متاثرین نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ انہیں مقامی جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا جہاں بھتہ خوری، بھوک، جسمانی تشدد، برقی جھٹکوں اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔2023 میں یونان کے قریب ایڈریانا کشتی حادثے میں 262 پاکستانیوں کی ہلاکت اور 2025 میں بحیرہ روم میں پیش آنے والے مختلف سانحات میں مزید 83 پاکستانیوں کی جانوں کا ضیاع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ’’ڈنکی‘‘ راستہ درحقیقت موت کا سفر ہے۔غیر قانونی ہجرت کے لئے انسانی سمگلر فی فرد 30 لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک وصول کرتے ہیں۔ اکثر خاندان یہ رقم زمینیں فروخت کرکے، قرض لے کر یا اپنی جمع پونجی خرچ کرکے ادا کرتے ہیں۔ اگر سفر ناکام ہو جائے تو متاثرہ خاندان شدید مالی بحران اور قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

حکومت پاکستان نے انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے قومی ایکشن پلان 2030-2026 کے تحت سرحدی نگرانی اور ایئرپورٹس پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کئے گئے ہیں۔ایف آئی اے نے ملک کے بڑے ہوائی اڈوں پر سیکنڈ لائن کنٹرول اور مصنوعی ذہانت پر مبنی بائیومیٹرک پروفائلنگ نظام متعارف کرایا ہے جس کے نتیجے میں صرف 2025 کے دوران تقریباً 40 ہزار مشتبہ مسافروں کو بیرون ملک روانگی سے روکا گیا۔حکام کے مطابق مغربی سرحد پر 10 سرکاری کراسنگ پوائنٹس قائم کئے جا چکے ہیں جبکہ بیرون ملک رابطہ کاری کے لئے 6 لنک دفاتر بھی فعال ہیں۔ان اقدامات کے نتیجے میں 2025 کے دوران یورپ جانے کی غیر قانونی کوششوں میں 47 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی عرصے میں ایف آئی اے نے تقریباً ایک ہزار 770 انسانی سمگلروں کو گرفتار کیا جبکہ فیلڈ آپریشنز کے دوران پکڑے جانے والے افراد کی تعداد 628 سے بڑھ کر 2 ہزار 662 تک پہنچ گئی۔

یورپی یونین نے انسانی سمگلنگ کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی کو ’’مثالی‘‘ قرار دیتے ہوئے علاقائی تعاون اور انسداد سمگلنگ پروگراموں کے لئے مزید مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔وطن واپس آنے والے متاثرین کی بحالی کے لئے تفتان میں قائم خصوصی استقبالی مرکز سمیت لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر سہولت مراکز فعال ہیں جہاں نفسیاتی مشاورت، طبی امداد اور قانونی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کا حل غیر قانونی ہجرت نہیں بلکہ تعلیم، فنی تربیت اور قانونی ذرائع سے بیرون ملک روزگار کے مواقع حاصل کرنا ہے۔ نوجوانوں کو آئی ٹی، انجینئرنگ، نرسنگ اور دیگر تکنیکی شعبوں میں مہارت حاصل کرکے قانونی امیگریشن پروگراموں سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی گئی ہے۔حکام نے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ریکروٹمنٹ ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنے سے قبل اس کی اسناد کی تصدیق ایف آئی اے یا پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (پی او ای سی) کے ذریعے ضرور کریں۔