پاکستان کا بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام کی پیش رفت کا خیرمقدم، اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شام میں بشارالاسد کے طویل اقتدار کے خاتمے کے تقریباً 18 ماہ بعد ملک بہتر مستقبل کی جانب پیش رفت کر رہا ہے اور مثبت تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہا ہے۔

اقوام متحدہ۔23جون (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شام میں بشارالاسد کے طویل اقتدار کے خاتمے کے تقریباً 18 ماہ بعد ملک بہتر مستقبل کی جانب پیش رفت کر رہا ہے اور مثبت تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے شام کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں بحث کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ غیر مستحکم علاقائی ماحول کے باوجود شامی قیادت نے جس دانشمندی کے ساتھ قومی ترجیحات اور بحالی کے عمل پر توجہ مرکوز رکھی، وہ قابلِ ستائش اور قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور بعد ازاںسوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں ہونے والی تعمیری ملاقاتیں خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور تعاون کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 2024 کے آخر میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام میں نمایاں سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ملک کے نئے رہنما احمد الشراع نے عالمی برادری کے ساتھ روابط بڑھائے ہیں، ماضی کے جنگی جرائم پر احتساب کا وعدہ کیا اور حکومتی اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ پاکستانی مندوب نے شام کی خودمختاری کی اسرائیلی خلاف ورزیوں، بشمول حالیہ فوجی دراندازیوں، من مانی گرفتاریوں اور املاک و روزگار کی تباہی کو قابلِ مذمت اور عدم استحکام پیدا کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ شامی گولان میں نئی پانچ سالہ آبادکاری توسیعی منصوبہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور اسے فوراً بند کیا جانا چاہیے۔

پاکستان نے شام اور اقوامِ متحدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی منتقلی کا عمل شامی عوام کی قیادت اور ملکیت میں ہونا چاہیے جبکہ شام کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جائے۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل اور تعمیری رابطہ اور تعاون حاصل شدہ کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے عبوری انصاف اور احتساب بنیادی ستون ہوں گے۔ انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ شام میں فنڈنگ کے خلا کو پُر کرنے، اقتصادی بحالی اور ترقی کے منصوبوں کے لیے مزید امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور اسے عالمی برادری میں دوبارہ مکمل شمولیت دلانے اور شامی عوام کے لیے ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔