واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان عظیم جدوجہد کی روشن علامت، امام حسینؑ کی قربانی اسلام کی سربلندی کا درس ہے
کربلا: ظلم کے خلاف مزاحمت کی لازوال علامت

مزید خبریں
پشاور۔ 23 جون (اے پی پی):واقعہ کربلا تاریخ کے ان طاقتور ترین علامات میں سے ایک ہے جو غیر متزلزل ایمان اور ظلم و ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے جس میں حضرت امام حسینؑ نے اسلام کی سربلندی کے لیے اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش فرمایا۔
سال 680ء میں نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین ؑ نے ظلم کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے حق، انصاف اور اسلام کی سربلندی کےلیے کھڑے ہونے کا انتخاب کیا۔ موجودہ عراق میں واقع کربلا کے تپتے ہوئے میدانوں میں ان کے غیر متزلزل مؤقف نے یہ ثابت کر دیا کہ سچائی کو تعداد یا دنیاوی طاقت سے نہیں ناپا جاتا بلکہ اسے حق، انصاف اور اخلاقی اقدار کے ساتھ پختہ وابستگی سے پرکھا جاتا ہے۔ واقعہ کربلا کوئی فوجی ٹکراؤ نہیں تھا بلکہ یہ انصاف اور ظلم، حق اور باطل اور اصول اور طاقت کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا۔ اس تاریخی اور المناک واقعے کے مرکز میں حضرت امام حسین ؑ کھڑے تھے جن کے ساتھ تقریباً 72 وفادار ساتھی موجود تھے جنہوں نے جابر حکمران کے ظلم و ستم کے آگے ہار ماننے کے بجائے شہادت کا رتبہ پانے کو ترجیح دی۔ مخالف قوت کی بھاری اور بے پناہ طاقت کے باوجود حضرت امام حسین ؑ نے ناانصافی اور باطل کے آگے جھکنے کے بجائے شہادت کا انتخاب کیا اور شجاعت، قربانی اور ایمان کا ایک لازوال ورثہ چھوڑ گئے۔ محکمہ اوقاف خیبر پختونخوا کے چیف خطیب مولانا طیب قریشی نے منگل کو قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین ؑ، ان کے پیارے خاندان اور وفادار ساتھیوں کی یہ عظیم قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، ظلم اور باطل کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امام حسین ؑ نے جابر کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی حکومت نے خلافت کو ایک موروثی بادشاہت میں تبدیل کر دیا تھا۔ مولانا طیب نے کہا کہ حضرت امام حسین ؑ کی شہادت محض ایک ذاتی قربانی نہیں تھی بلکہ یہ انصاف اور سچائی کےلیے ایک ایسا لازوال مؤقف تھا جو آنے والی نسلوں، مسالک اور براعظموں کے لوگوں کو ہمیشہ متاثر کرتا رہے گا۔ انہوں نے حضرت امام حسین ؑ کے اس مشہور فرمان کا حوالہ دیا کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، جو اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں اور نہ ہی ظلم کے آگے سر جھکائیں۔ انہوں نے بتایا جابر حکمران نے اپنی ظالمانہ حکومت کو جائز تسلیم کرانے کےلیے نامور مسلم شخصیات سے بیعت طلب کی۔ حضرت امام حسین ؑنے، جسے وہ ناانصافی سمجھتے تھے، انکار کر دیا۔ اہلِ کوفہ کی درخواستوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس شہر کی طرف سفر شروع کیا لیکن جابر کی افواج نے ان کا راستہ روک لیا جنہوں نے کربلا کے مقام پر ان کے قافلے کو گھیرے میں لے لیا اور پانی تک رسائی بند کر دی۔ شدید مصائب اور مشکلات کے باوجود حضرت امام حسین ؑ اور ان کے پیروکاروں کا چھوٹا سا گروہ جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، ثابت قدم رہے اور پوری شجاعت کے ساتھ ہر ظلم کا سامنا کیا۔ 10 محرم الحرام کو ان کے ساتھی ایک ایک کرکے شہید ہو گئے جن میں ان کے پیارے خاندان کے ارکان اور وفادار رفقا ء بھی شامل تھے۔ آخری لمحات میں حضرت امام حسین ؑ تنہا کھڑے تھے، انہوں نے اسلام کی سربلندی کےلیے شہادت کا رتبہ پانے سے پہلے غیر معمولی شجاعت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ پشاور یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سینٹر کے سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر غفور احمد نے ’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جابر نے فوجی فتح کا دعویٰ کیا لیکن تاریخ حضرت امام حسین ؑ کو ہی حقیقی فاتح کے طور پر یاد رکھتی ہے کیونکہ ان کی بے مثال قربانی نے حق اور باطل اور انصاف اور ظلم کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین ؑاور ان کے عظیم ساتھیوں کی قربانی کسی ذاتی فائدے کےلیے نہیں تھی، یہ اسلامی عقیدے کےلیے تھی۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ اللہ کی رضا اور اسلام کی سچائی سے بالاتر کچھ بھی نہیں ہے۔ اسلامیہ کالج پشاور کے شعبہ اسلامیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حفاظت اللہ شاہ نے سانحہ کربلا کو اسلامی تاریخ کا سب سے غم ناک واقعہ قرار دیا جو انصاف اور ظلم کو جدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین ؑ اور ان کے ساتھیوں نے کربلا کی تپتی ہوئی گرمی میں شدید ترین مصائب برداشت کیے لیکن انصاف اور سچائی کےلیے اپنی اصولی جدوجہد میں کبھی لغزش نہیں آنے دی۔ انہوں نے کہا کہ حسینی ہونے کا مطلب زندگی میں امن، ہمدردی کو فروغ دینا اور انصاف و راستبازی کےلیے جدوجہد جاری رکھنا ہے۔ جو لوگ تشدد کو ہوا دیتے ہیں اور نفرت انگیز کاموں کو فروغ دیتے ہیں، وہ کربلا کے ورثے کے برعکس کام کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کربلا کا حقیقی پیغام مسالک کی تقسیم سے بالاتر ہو کر انصاف، سچائی اور انسانیت کی خاطر اہل بیت کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے میں پنہاں ہے۔ آج حضرت امام حسین ؑکو دنیا بھر میں غیر متزلزل ایمان، ظلم کے خلاف مزاحمت اور غیر معمولی اخلاقی جرات کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا ورثہ سکھاتا ہے کہ جب سچائی ظلم اور ناانصافی کی طاقتوں کے سامنے بظاہر اکیلی نظر آئے، تب بھی حق کےلیے مضبوطی سے کھڑے رہنے کی ایک ابدی اور لازوال قیمت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر حفاظت اللہ نے کہا کہ حق کو گھیرا تو جا سکتا ہے لیکن اسے کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔کربلا کا سبق ظاہر کرتا ہے کہ قیادت طاقت کا نام نہیں بلکہ اصول کا نام ہے اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔حضرت امام حسین ؑنے دکھایا کہ سچی قیادت ہمدردی، قربانی اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔ انہوں نے انصاف کو برقرار رکھنے اور ہر قسم کے ظلم و ستم کی مخالفت کے لیے اتحاد اور اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔ علماء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں کو حق، انصاف اور انسانی وقار کےلیے کھڑے ہونے کی خاطر کربلا کے اس ابدی ورثے سے رہنمائی اور حوصلہ حاصل کرنا چاہیے۔








