برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے ذاتی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر کر کے برطانوی تاریخ میں نئی مثال قائم کر دی

برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے ذاتی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر کر کے برطانوی تاریخ میں نئی مثال قائم کر دی

لندن ۔26جون (اے پی پی):برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے اپنی ذاتی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات ظاہر کر کے برطانوی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے، وہ پہلی بار ایسے بادشاہ بن گئے ہیں جنہوں نے اپنی انفرادی ٹیکس ادائیگیوں کو عوامی سطح پر جاری کیا ہے۔

شنہوا کےبادشاہ چارلس سوم نے مالی سال 2024-25 کے دوران 12.9 ملین پاؤنڈ (تقریباً 17 ملین امریکی ڈالر) بطور ذاتی ٹیکس ادا کیے۔ اس سے قبل مالی سال 2023-24 میں انہوں نے 11.7 ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق تخت نشینی کے بعد ستمبر 2022 سے اب تک ان کی مجموعی ٹیکس ادائیگیاں 30 ملین پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہیں۔محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار شاہی مالیات سے متعلق ایک نئے دستاویز کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں، جس کا مقصد شاہی اخراجات میں شفافیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی بادشاہ قانونی طور پر انکم ٹیکس، کیپٹل گینز ٹیکس یا وراثتی ٹیکس ادا کرنے کے پابند نہیں ہوتے، تاہم 1990 کی دہائی میں طے پانے والے ایک رضاکارانہ معاہدے کے تحت بادشاہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

بادشاہ چارلس سوم اس سے قبل شہزادۂ ویلز کے طور پر بھی اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات جاری کرتے رہے ہیں، تاہم بادشاہ بننے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ان کی ذاتی ٹیکس ادائیگیوں کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔

محل کے اہلکار جیمز چیلمرز نے کہا کہ شاہی مالیات بظاہر پیچیدہ نظر آ سکتی ہیں، تاہم یہ ایک منظم قانونی ڈھانچے کے تحت چلتی ہیں جس کا مقصد بادشاہ کو آزادانہ اور شفاف انداز میں خدمات انجام دینے کے قابل بنانا ہے۔