قومی پیغامِ امن کمیٹی کا عاشورۂ محرم کے پُرامن اختتام پر حکومت، علماء اور سیکیورٹی اداروں کو خراجِ تحسین

قومی پیغامِ امن کمیٹی کا یومِ عاشورہ پر امن فضا برقرار رکھنے پر خراجِ تحسین

اسلام آباد۔26جون (اے پی پی):قومی پیغامِ امن کمیٹی نے عاشورۂ محرم کے موقع پر ملک بھر میں امن و امان، مذہبی رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے مثالی ماحول کو برقرار رکھنے پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ، ذاکرین، واعظین، خطباء، مجالس و جلوسوں کے منتظمین، پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں محرم الحرام کے ایام پرامن اور باہمی احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، پیر سید نقیب الرحمن، مفتی عبد الرحیم، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، علامہ عارف علوی، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ توقیر عباس، مولانا عادل عطاری، حافظ محمد امجد، مولانا رمضان سیالوی، مولانا سمیع اللہ آغا، مولانا نعمان نعیم، حافظ مقبول احمد، مولانا زاہد منصور اور دیگر ممتاز علماء کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ محرم الحرام کے دوران قائم رہنے والا امن، مذہبی رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی تمام مکاتبِ فکر، سیکیورٹی اداروں اور حکومتی اداروں کے مؤثر تعاون اور قومی یکجہتی کا عملی مظہر ہے۔بیان میں پاک فوج، دیگر سلامتی کے اداروں، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی پولیس، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ حساس ایام میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ان کی انتھک کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ مل کر بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، مذہبی رواداری کے استحکام اور انتہا پسندی و فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔اس موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، علماء و مشائخ، ذاکرین، واعظین، خطباء، امن کمیٹیوں اور سیکیورٹی اداروں کے بھرپور تعاون سے عاشورۂ محرم کے ایام محبت، رواداری، امن اور باہمی احترام کے ماحول میں مکمل ہوئے۔انہوں نے قومی پیغامِ امن کمیٹی، پاکستان علماء کونسل، اتحاد بین المسلمین کمیٹی، ضلعی و ڈویژنل امن کمیٹیوں اور ملک بھر کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ دارانہ قیادت نے قومی وحدت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں خدمات انجام دینے والے پولیس اہلکاروں، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دیے۔انہوں نے کہا کہ "مارکۂ حق” کے بعد کی علاقائی صورتحال اور ایران، اسرائیل تنازع کے تناظر میں دشمن عناصر نے پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مذہبی جماعتوں، حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی اور تعاون کے باعث ان مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا گیا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے وژن کا ثمر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی عوامل کے باعث ملک بھر میں محرم الحرام کے دوران امن، اتحاد اور مذہبی رواداری کی فضا برقرار رہی۔انہوں نے ضابطۂ اخلاق "پیغامِ پاکستان” کی خلاف ورزی سے متعلق موصول ہونے والی چند شکایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعداد مجموعی سرگرمیوں کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم ہے اور ان معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جس جذبۂ اخوت، اتحاد، مذہبی رواداری اور امن کا مظاہرہ محرم الحرام کے دوران دیکھنے میں آیا، وہ پورے سال برقرار رہے گا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، دیگر وفاقی و صوبائی وزراء، متعلقہ سرکاری محکموں اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر ایک بار پھر تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ، مذہبی قائدین، سلامتی کے اداروں اور حکومتی ذمہ داران کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے باہمی تعاون نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں مختلف مسالک اور مکاتبِ فکر قومی اتحاد، مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور امن کے فروغ کے لیے متحد ہو کر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔