مرکزی ماتمی جلوس حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر پُرامن اختتام پذیر
عاشورہ محرم کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی کے درمیان حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا

مزید خبریں
کراچی۔ 26 جون (اے پی پی):10 محرم الحرام 1448 ہجری کوشہرقائد میں عاشورہ محرم کا مرکزی ماتمی جلوس سکیورٹی کے سخت حصار میں نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔عاشورہ کے مرکزی جلوس کے شرکاء نے ممتاز عالم دین علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کی قیادت میں تبت سینٹر میں نماز ظہرین ادا کی۔
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے مرکزی یوم عاشورہ کے جلوس میں شرکت کی اور عزاداروں سے ملاقات کی۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی یہاں سی بریز پلازہ، ایم اے جناح روڈ پر عاشورہ کے جلوس میں شمولیت کی۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے بھی دسویں محرم الحرام کے مرکزی جلوس عاشورہ کے روٹ کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل ڈسٹرکٹ ایسٹ ڈاکٹر فرخ علی نے یہاں نمائش چورنگی پر عاشورہ کے مرکزی جلوس کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ کراچی پولیس کی جانب سے عاشورہ کے مرکزی جلوس کے موقع پر عزاداروں کے لیے پرامن ماحول کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔ کراچی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی آزاد خان کی ہدایت پر مرکزی جلوس کی سکیورٹی کے لیے تقریبا 6,843 پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس موقع پر تعینات پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں میں تقریبا 1016 ٹریفک پولیس اہلکار اور 157لیڈی پولیس اہلکار شامل تھے۔ مرکزی جلوس کی نگرانی اور موثر ردعمل کے لیے پولیس کی 182 گاڑیاں جن میں موبائل یونٹس، اے پی سیز (آرمرڈ پرسنل کیریئرز)، موٹر سائیکلیں اور دیگر سرکاری گاڑیاں بھی مختلف مقامات پر تعینات تھیں۔ جلوس کے راستوں پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے جن میں اسنائپرز، ریزرو فورسز، سادہ لباس اہلکاروں، بم ڈسپوزل سکواڈز، سرچ اینڈ سویپ آپریشنز، اسنیپ چیکنگ اور ٹریفک کا موثر انتظام شامل تھا۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی گئی۔ جلوس کے مرکزی روٹ اور اطراف کی سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا گیا تھا۔ ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے اعلان کردہ متبادل راستوں پر روانہ کیا گیا ۔ جلوس کے روٹ پر سبیل (مفت کھانوں اور ٹھنڈے پانی اور مشروبات کے اسٹالز) کے ساتھ ساتھ ریسکیو آرگنائزیشن کے اسٹالز بھی جلوس کے روٹ پر لگائے گئے تھے ۔







