مشرقی موٹروے کوریڈور کی تکمیل کی جانب اہم پیش رفت، ایس آئی ایف سی کا کردار نمایاں
ایس آئی ایف سی کی بدولت ایم-13 موٹر وے منصوبہ میں تیزی

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جون (اے پی پی):خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی ) کی مؤثر ادارہ جاتی رابطہ کاری اور بروقت فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان کے اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں شامل مشرقی موٹروے کوریڈور کی تکمیل کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
کونسل کی ہدایات پر ایم-13 موٹروے کے مالیاتی اور تکنیکی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل، منظوریوں کے عمل میں تیزی اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی نے برسوں سے زیرالتوا منصوبے کو نئی رفتار دے دی ہے۔مشرقی موٹروے کوریڈور ایم-11 (لاہور۔سیالکوٹ)، ایم-12 (سیالکوٹ۔کھاریاں) اور ایم-13 (کھاریاں۔راولپنڈی) پر مشتمل ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے پر لاہور، سیالکوٹ، کھاریاں اور راولپنڈی کے درمیان جدید، تیز رفتار اور متبادل موٹروے رابطہ قائم ہوگا، جس سے صنعتی مراکز، تجارتی سرگرمیوں اور وفاقی دارالحکومت کے درمیان آمدورفت مزید مؤثر ہو جائے گی۔اس منصوبے کا تصور 2007 میں حکومت پنجاب نے پیش کیا تھا، تاہم مختلف انتظامی اور مالی وجوہات کے باعث اس پر پیش رفت نہ ہو سکی۔ بعد ازاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے اسے وسعت دیتے ہوئے راولپنڈی تک ایک قومی اہمیت کے حامل مشرقی موٹروے کوریڈور کی شکل دی۔103 کلومیٹر طویل ایم-11 موٹروے 2020 میں مکمل ہوئی، جبکہ 69 کلومیٹر طویل ایم-12 پر تعمیراتی کام 2022 میں شروع ہوا۔ اگرچہ 2024 میں منصوبہ سست روی کا شکار رہا، تاہم ایس آئی ایف سی کی مربوط کاوشوں کے بعد اس پر کام دوبارہ تیز کر دیا گیا۔117.2 کلومیٹر طویل ایم-13 اس کوریڈور کا آخری اور سب سے اہم حصہ ہے، جو مکمل ہونے پر ایم-2، ایم-1 اور راولپنڈی رنگ روڈ سے منسلک ہو کر لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ایک متبادل ہائی کیپسٹی موٹروے فراہم کرے گا۔ابتدائی طور پر 2022 میں اس منصوبے کو چار رویہ موٹروے کے طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت منظور کیا گیا تھا، تاہم معاشی چیلنجز اور مالیاتی مشکلات کے باعث منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔مارچ 2025 میں ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے این ایچ اے کو منصوبے کو ابتدا ہی سے چھ رویہ موٹروے میں تبدیل کرنے، مالیاتی ڈھانچے پر نظرثانی کرنے اور منظوریوں کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد مختلف اداروں نے بیک وقت کارروائی مکمل کی، جس سے فیصلہ سازی اور عملدرآمد کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی۔نظرثانی شدہ منصوبے کی بعد ازاں ایکنک اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) بورڈ نے بھی منظوری دے دی۔واضح ر ہے کہ مشرقی موٹروے کوریڈور کی تکمیل سے سفری دورانیہ کم ہوگا، مال برداری اور برآمدات کو فروغ ملے گا اور ملک کے صنعتی مراکز کو وفاقی دارالحکومت سے مزید مؤثر انداز میں جوڑا جا سکے گا۔ منصوبہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ ایس آئی ایف سی مؤثر بین الادارہ جاتی رابطہ کاری کے ذریعے قومی اہمیت کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے








