"دنیا بھر میں سالانہ تقریباً پانچ ٹریلین پلاسٹک بیگز استعمال ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں ان کی سالانہ پیداوار 55 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔” — ثانیہ انور
دنیا بھر میں سالانہ پانچ ٹریلین پلاسٹک بیگز کا استعمال ، پاکستان میں پلاسٹک بیگز کی سالانہ پیداوار 55 ارب سے زیادہ ہے، ثانیہ انور

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جون (اے پی پی):دنیا بھر میں سالانہ تقریباً پانچ ٹریلین پلاسٹک بیگز استعمال کئے جاتے ہیں، پاکستان میں پلاسٹک بیگز کی سالانہ پیداوار 55 ارب سے زیادہ ہے، ملک بھر میں روزانہ پندرہ کروڑ شاپرز تیار اور استعمال کئے جاتے ہیں۔ معروف تجزیہ کار ثانیہ انور نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ حلقے پھلکے پلاسٹک بیگز کے متعدد فوائد ہیں تاہم ان کے منفی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کے شاپر کا اوسط استعمال کا دورانیہ 12 سے 15 منٹ ہے، استعمال کے بعد ان کو کچرے میں پھینکنے کے بعد یہ خود ختم نہیں ہوتے بلکہ پلاسٹک بیگز کو گلنے یا مٹی میں تحلیل ہونے کےلئے 400 سے لے کر ایک ہزار سال تک کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اتنے طویل عرصہ کے بعد بھی یہ بیگز مکمل طور پر ختم ہونے کی بجائے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں مائیکر پلاسٹک کہا جا تا ہے جس سے نہ صرف ماحولیات بلکہ آبی حیات سمیت انسان بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی جانب سے آسٹریلیا کی نیو کیسل یونیورسٹی میں کی جانے والی عالمی تحقیق کے مطابق انسان ایک ہفتے کے دوران لاشعوری طور پر تقریباً 5 گرام مائیکرو پلاسٹک نگل جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 90 فیصد پلاسٹک پینے کے پانی جبکہ 10 فیصد باقی خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔دوسری جانب مائیکر پلاسٹک پانی، مٹی اور خوراک کے ذریعے جانوروں اور آبی حیات کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ثانیہ انور نے کہا کہ وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں شاپنگ بیگز اور پلاسٹک پیکجنگ تیار کرنے والے یونٹس کی تعداد 8 تا 11 ہزار کے درمیان ہے جن میں سے اکثر کاٹیج انڈسٹری ، گھریلو یا چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس صنعت سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار افراد کا براہ راست جبکہ 6 لاکھ سے زیادہ افراد بلواسطہ روزگار کماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک بیگز کو انسان کی زندگی سے یکدم خارج کرنا ممکن نہیں تاہم پلاسٹک بیگز کی ریسائیکلنگ کے نظام اور اس کے استعمال کو محدود سے محدود تر کرکے انسانی صحت، سمندری حیات اور ماحولیات کے شعبہ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ پلاسٹک بیگز کی بجائے کپڑے کے تھیلوں کے استعمال کو فروغ دے کر بھی کئی مسائل سے بچا جاسکتا ہے








