مون سون کی بیماریوں کے ممکنہ پھیلاؤ سے تحفظ کیلئے بروقت احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے، ترجمان اسلام آباد پولی کلینک ہسپتال

"ترجمان اسلام آباد پولی کلینک ہسپتال نے کہا ہے کہ مون سون کے دوران بیماریوں کے ممکنہ پھیلاؤ سے بچاؤ کے لیے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔”

اسلام آباد۔28جون (اے پی پی):مون سون کے حوالہ سے ماہرین صحت نے صحت کے ممکنہ مسائل کے بارے میں وارننگ جاری کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا ہے کہ محتاط رہیں، اسہال، ٹائیفائیڈ، ڈینگی، ہیپاٹائٹس، حفظان صحت سے متعلق دیگر بیماریوں سے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اپنائیں، غیر صحت بخش خوراک سے پرہیز کریں ۔

مون سون کے دوران مختلف انفیکشنز کے پھیلائو سے محفوظ رہنے کے حوالہ سے احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالتے ہوئے اتوار کو ایک مقامی میڈیا چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد پولی کلینک ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر جبار بھٹو نے شہریوں پر زور دیا کہ مون سون کے آغاز سے قبل محفوظ خوراک اور حفظان صحت کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی اکثر متعدی بیماریوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ باسی، بغیر ڈھکے ہوئے یا غیر صحت بخش کھانے کی اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں۔ انہوں نے ر زور دیا کہ کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے تازہ اور مناسب طریقے سے پکا ہوا کھانوں کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے بارش کے موسم میں غیرمحفوظ کھانے پینے کی اشیا کے استعمال کے بارے میں بھی تنبیہ کی۔ ڈاکٹر جبار بھٹو نے خبردار کیا کہ مون سون کے دوران آلودہ پانی ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ اور پیٹ کے انفیکشن کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ انہوں نے پینے کے پانی کو ابالنے یا فلٹر شدہ پانی کے استعمال کی سفارش کی۔ انہوں نے بتایا کہ بخار، الٹی، اسہال اور دیگر معدے کے انفیکشن کے کیسز عام طور پر ناقص حفظان صحت کے طریقوں اور آلودہ خوراک کے استعمال کی وجہ سے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ خود دوائی استعمال نہ کریں اور اگر علامات برقرار رہیں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔ ڈاکٹر ندا عباسی نے مون سون کے دوران ڈینگی، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ہسپتالوں میں بچوں اور بزرگوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے عوام کو تلقین کی کہ بارش کے دوران بازاروں سے اشیائے خوردونوش کی خریداری سے گریز کریں، گھروں اور گردونواح میں صفائی ستھرائی کو برقرار رکھیں اور مچھروں سے بچاؤ کے اقدامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیز بخار، جوڑوں کا درد اور مسلسل کمزوری کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔ اس حوالہ سے فوری طبی مشاورت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بازاروں اور سڑک کناروں پر غیر صحت مند، تیل پر مبنی کھانے، آلودہ پانی اور ناقص خوراک مون سون کی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ ایسے کھانے کے ذرائع سے سختی سے اجتناب کریں تاکہ انفیکشن اور پیٹ سے متعلق امراض کا خطرہ کم ہو سکے۔ انہوں نے مون سون کے موسم میں مناسب طریقے سے ہائیڈریٹ رہنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پینے کے محفوظ اور صاف پانی کے استعمال کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کے کنارے غیر صحت بخش مشروبات کے استعمال سے پرہیز کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ حفظان صحت کو برقرار رکھیں، متوازن غذا کے ذریعے قوت مدافعت کو مضبوط کریں اور بیماری کی صورت میں بروقت طبی امداد حاصل کریں۔