اپیل میں مداخلت صرف غیر معمولی حالات میں ہو سکتی ہے،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی ملزم کی بریت کا فیصلہ’’دوہرے قرینہ بے گناہی‘‘ (Double Presumption of Innocence) کا حامل ہوتا ہے، اس لیے اپیل میں ایسے فیصلے کو صرف اسی صورت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب قانون یا شواہد کی واضح اور سنگین غلطی ثابت ہو۔ عدالت نے اسی اصول کی بنیاد پر جعلی پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کیس میں ملزم الطاف یوسف کی بریت …

اسلام آباد۔ 28 جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی ملزم کی بریت کا فیصلہ’’دوہرے قرینہ بے گناہی‘‘ (Double Presumption of Innocence) کا حامل ہوتا ہے، اس لیے اپیل میں ایسے فیصلے کو صرف اسی صورت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب قانون یا شواہد کی واضح اور سنگین غلطی ثابت ہو۔ عدالت نے اسی اصول کی بنیاد پر جعلی پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کیس میں ملزم الطاف یوسف کی بریت بحال کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری نظامِ انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ ملزم کے خلاف الزامات شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرےعدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ ملزم کو جعلی سفری دستاویزات کے بارے میں علم تھا یا اس نے دھوکہ دہی اور جعلسازی میں جان بوجھ کر معاونت کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے صرف فضائی ٹکٹ جاری کرنا کسی مجرمانہ سازش یا فراڈ میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں بنتا۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ شریک ملزم کا پولیس کے سامنے دیا گیا بیان قانونِ شہادت کے تحت قابلِ قبول نہیں، جبکہ اس کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بھی ریکارڈ نہیں کرایا گیا، اس لیے اسے ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ سندھ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے بریت کے فیصلے کو کالعدم کرتے وقت کوئی مضبوط قانونی یا حقائق پر مبنی وجہ بیان نہیں کی اور نہ ہی شواہد کا آزادانہ جائزہ لیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ کا درست تجزیہ کرتے ہوئے ملزم کو بری کیا تھا، اس لیے اس فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔عدالت نے اپنے مختصر حکم کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کراچی کی جانب سے 21 جون 2006 کو دیا گیا ملزم الطاف یوسف کی بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔