برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت ہی پاکستان کو آئی ایم ایف پر انحصار سے مستقل نجات دلا سکتی ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی بقا، خودمختاری اور ترقی کا اگلا اور فیصلہ کن معرکہ معیشت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ہے کیونکہ برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت ہی پاکستان کو آئی ایم ایف پر انحصار سے مستقل نجات دلا سکتی ہے۔

لاہور۔28جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی بقا، خودمختاری اور ترقی کا اگلا اور فیصلہ کن معرکہ معیشت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ہے کیونکہ برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت ہی پاکستان کو آئی ایم ایف پر انحصار سے مستقل نجات دلا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی تربیت فراہم کرکے پاکستان کو عالمی معیشت میں نمایاں مقام دلانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ہیلتھ رکس ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی حافظ میاں نعمان، مسلم لیگ (ن) کے رہنما عمران گورائیہ، ماجد ظہور، توصیف شاہ، سابق ضلع ناظم لاہور کرنل (ر) مبشر، گروپ چیئرمین طاہر جاوید سمیت ادارے کے سینئر حکام اور ملازمین کی بڑی تعداد موجود تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گروپ چیئرمین طاہر جاوید امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ حالیہ معرکہ حق میں اللہ تعالی نے پاکستان کو تاریخی عزت و وقار سے نوازا اور پوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی معترف ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کا کریڈٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جاتا ہے، جن کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا وقار مزید مستحکم کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگ طول پکڑتی تو دنیا شدید معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے اور عالمی سطح پر مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا شکار ہو جاتی تاہم پاکستان نے موثر سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے لیکن اگر ہم ’’معرکہ معیشت‘‘ میں کامیاب نہ ہوئے تو دیگر کامیابیوں کے ثمرات محدود ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 1998 میں پاکستان کی ترقی کے ایک نئے وژن کی بنیاد رکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو دہشت گردی اور بدترین لوڈشیڈنگ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا تھا لیکن محمد نواز شریف کی قیادت میں ملک سے دہشت گردی اور توانائی بحران پر بڑی حد تک قابو پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں بین الاقوامی ادارے پاکستان کو دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھنے والا ملک قرار دے رہے تھے تاہم بعد میں آنے والی حکومت نے ترقی کے اس سفر کو شدید نقصان پہنچایا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم قومی مفاد میں کیے گئے مشکل فیصلوں کی بدولت ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان بیرونی سطح پر ڈیفالٹ کر جاتا تو اس کے اثرات نہایت سنگین ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاست پر ریاست اور معیشت کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر تقریبا ً6 فیصد پر آ گئی جبکہ پالیسی ریٹ بھی 23 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک منظم مہم کے ذریعے نوجوانوں میں مایوسی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، جس سے قومی اداروں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافات کے باوجود قومی اداروں اور ملک کی ساکھ کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور بیرون ملک جا کر اپنے ملک کو بدنام کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے ذریعے ملک کو ترقی کی نئی منزلوں کی جانب لے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پر انحصار کے خاتمے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے جبکہ بیرون ملک مقیم تقریبا ً90 لاکھ پاکستانی سالانہ 40 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے عالمی معیشت میں انقلاب برپا کر دیا ہے، اس لیے نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہے اور پالیسیوں کے تسلسل، قومی یکجہتی اور محنت کے ذریعے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو چکا ہے اور امید ہے کہ باقی ماندہ معمولی رکاوٹیں بھی جلد دور ہو جائیں گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے حصے کا پانی نہیں روک سکتا، پاکستان اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کا مکمل حق رکھتا ہے جبکہ عالمی برادری بھی اس معاملے پر بھارت پر دبا ؤڈال رہی ہے۔ تقریب کے اختتام پر بہترین کارکردگی پر تربیت مکمل کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔