پروف آف رجسٹریشن کارڈ پر پاکستان میں قیام کو قانونی مدت میں شمار نہ کرنے کا کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے افغان خواتین کے خلاف تادیبی کارروائی روک دی

پروف آف رجسٹریشن کارڈ پر پاکستان میں قیام کو قانونی مدت میں شمار نہ کرنے کا کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے افغان خواتین کے خلاف تادیبی کارروائی روک دی

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ نے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ پر پاکستان میں گزارے گئے عرصے کو قانونی قیام میں شمار نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر تین افغان خواتین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روک دیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان سے معاونت طلب کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو جواب کے لیے نوٹس جاری کر دیئے۔جسٹس محمد آصف نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار خواتین کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی پیش ہوئے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تینوں افغان خواتین نے پاکستانی شہریوں سے شادی کی بنیاد پر پاکستانی شہریت کے لیے پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی دفعہ 10 کے تحت درخواستیں جمع کرا رکھی ہیں۔ خواتین کی شادیاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم ہیں جبکہ ان کے بچے بھی پاکستانی شہری ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے درخواستوں پر کارروائی سے قبل یہ شرط عائد کی ہے کہ خواتین ثابت کریں کہ وہ کم از کم پانچ سال تک درست ویزا اور پاسپورٹ پر پاکستان میں مقیم رہی ہیں، حالانکہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 میں پاکستانی شہری کی غیر ملکی بیوی کے لیے ایسی کوئی شرط موجود نہیں۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ دولت مشترکہ سے باہر کی خواتین کے لیے قانون کے مطابق صرف ڈومیسائل ضروری ہے جبکہ ایک سال سے پاکستان میں رہنے اور مستقل سکونت کا ارادہ رکھنے والے شخص کو ڈومیسائل سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پانچ سالہ قیام کی شرط بعد ازاں قواعد کے ذریعے شامل کی گئی جو بنیادی قانون سے متصادم اور اختیارات سے تجاوز ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ سٹیزن شپ ایکٹ کی دفعہ 23 حکومت کو قواعد بنانے کا اختیار تو دیتی ہے تاہم ایسے قواعد نہیں بنائے جا سکتے جو پارلیمنٹ کے دیئے گئے قانونی حق کو محدود یا ختم کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی او آر کارڈ کے تحت پاکستان میں کیا گیا قیام مکمل طور پر قانونی اور ریاست کی جانب سے تسلیم شدہ تھا، لہٰذا شہریت کے معاملے میں اسے غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے کے باعث درخواست گزار خواتین کو ملک بدری کا خطرہ لاحق ہے، اس لیے عدالت پی او آر کارڈ پر پاکستان میں گزارے گئے عرصے کو قانونی قیام قرار دے اور شادی کی بنیاد پر دائر شہریت کی درخواستوں پر بلا تاخیر فیصلہ کرنے کا حکم دے۔

عدالت نے تینوں درخواست گزار خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان سے معاونت طلب کر لی، وفاقی حکومت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا جبکہ مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔