گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہےکہ اپنی دانشمندانہ منصوبہ بندی اور کڑی نگرانی کے نتیجے میں ہم صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں محدود وسائل اور لامحدود مسائل کے درمیان توازن قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
حکومت ہائیر ایجوکیشن کو فروغ دینے میں بڑی دلچسپی لے رہی ہے، جعفرخان مندوخیل

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 01 جولائی (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہےکہ اپنی دانشمندانہ منصوبہ بندی اور کڑی نگرانی کے نتیجے میں ہم صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں محدود وسائل اور لامحدود مسائل کے درمیان توازن قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ آج گوادر یونیورسٹی کیلئے 88.79 فیصد کا سکور حاصل کرنا ہم سب کیلئے ایک اعزاز ہے جس کیلئے یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف گوادر کے تیسرے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ یونیورسٹی آف گوادر کے تیسرے سینٹ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن مندوخیل، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد اور رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان سمیت تمام سینٹ ارکان موجود تھے۔
تیسرے سینٹ اجلاس کے شرکائ سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ حکومت ہائیر ایجوکیشن کو فروغ دینے میں بڑی دلچسپی لے رہی ہے۔ ہمارا مقصد یونیورسٹی آف گوادر کو دنیا کی بہترین کوسٹل بیلٹ یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ گوادر یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 30-2026 میں صرف کوسٹل بیلٹ سے متعلقہ مضامین جیسے بلیو اکانومی، میرین سائنسز، فشریز، کوسٹل بیلٹ مینجمنٹ، اور ماحولیات شامل کیے گئے ہیں تاکہ اس کی امتیازی خصوصیت برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ ہم گوادر یونیورسٹی کو پورے خطے کی بہترین کوسٹل بیلٹ یونیورسٹی بنانے کی خاطر دیگر شعبوں کے ماہرین سے بھی مدد اور رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔
گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ گوادر یونیورسٹی میں کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ اور ڈپلومہ کورسز کا آغاز بہت شاندار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس لئے ان ڈپلومہ کورسز کو خاص اہمیت دیتے ہیں کیونکہ یہ بیروزگار نوجوانوں کیلئے روزگار کے وسیع مواقع کو یقینی بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ گوادر یونیورسٹی میں طلباء کی کل تعداد میں سے تقریباً نصف مقامی خواتین ہیں، ایسے دور دراز اضلاع میں یہ ایک قابل ستائش کوشش ہے۔ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد جدید علم پر مبنی تحقیق تیار کرنا ہے۔ اس سلسلے میں گوادر یونیورسٹی کے تحقیقی مقالوں کی تعداد متاثر کن حد تک زیادہ ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ہر ریسرچ پیپر کو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بروئے کار لائیں۔ یونیورسٹی آف گوادر کے تیسرے سینیٹ اجلاس کے شرکاء کی جانب سے تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے بھی کئے گئے۔








