وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون، معاہدوں کے تقدس اور علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ انسانی اقدار اور عالمی ضابطوں کے بھی منافی عمل ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں …
سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے، میر سرفراز بگٹی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 01 جولائی (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون، معاہدوں کے تقدس اور علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ انسانی اقدار اور عالمی ضابطوں کے بھی منافی عمل ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی روح بین الاقوامی تعاون، اعتماد اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ سے وابستہ ہے، اس لیے اس کی خلاف ورزی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی قانونی نظام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کے عوام کی زندگی، زراعت، خوراک اور معیشت کی بنیاد ہے اور پاکستان کے عوام کو اپنے آبی وسائل پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ہر کوشش خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون، سفارتی ذرائع اور متعلقہ عالمی فورمز پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرتا رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی، آبی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی، سفارتی اور آئینی اقدام جاری رکھے گا اور دریائے سندھ کے پانی پر پاکستانی عوام کے حق کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔








