اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستی، بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں

اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستی پر مبنی بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہوگئی۔

نئی دہلی ۔2جولائی (اے پی پی):اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستی پر مبنی بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے ایران پر حملے سے دو روز قبل مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اورجنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی،ایران پر حملوں کے دوران بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج توانائی و تجارتی مفادات کے تحت دوبارہ ایران سے قربت اختیار کر رہا ہے۔بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں مودی نے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا،آبنائے ہرمز کی بحالی اورایران پر مالی پابندیوں میں نرمی پہلے ہی ایران امریکا 14 نکاتی معاہدے میں شامل ہے۔

مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں اور تجارتی آزادی کا تحفظ عالمی و بھارتی مفاد قرار دے دیا۔عالمی ماہرین کے مطابق بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی پر زور ایران کی حمایت نہیں بلکہ بھارتی تجارت، تیل کی رسد اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری ترک کر چکا تھا جس سے واضح کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔بھارت نے ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح مذمت نہیں کی اور ایران کی خود مختاری کے دفاع میں بھی مکمل خاموشی اختیار کی۔جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کےساتھ شراکت داری، دورانِ جنگ مکمل خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی منافقت اورموقع پرستی کی علامت ہے۔

مزید خبریں