متبادل تنازعاتی حل کے فروغ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا، بیرسٹر عقیل ملک
ثالثی سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور انصاف کے نظام میں اصلاحات کی کلید ہے، بیرسٹر عقیل ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ثالثی محض عدالتی کارروائی کا متبادل نہیں بلکہ سرمایہ کاری، معاشی ترقی، کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے فروغ کی کلید بن چکی ہے،متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے مؤثر نظام سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور انصاف کی فراہمی مزید تیز اور مؤثر بنائی جا سکے گی۔انہوں نے یہ بات وزارت قانون و انصاف کے زیر انتظام انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی ایم اے سی ) کے زیر اہتمام پہلی بین الاقوامی طور پر منظور شدہ ثالثی تربیتی پروگرام (ماڈیول-I) کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پانچ روزہ پروگرام کی اختتامی تقریب کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں کامیاب شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان جدید، مؤثر اور سرمایہ کاری کے لئے سازگار نظام انصاف کے قیام کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کی ثالثی تربیت پاکستان کو عالمی ثالثی معیارات سے ہم آہنگ بنانے میں مدد دے گی جبکہ متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو ثالثی، مفاہمت اور مذاکرات جیسے جدید ذرائع تک وسعت ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تجارتی تنازعات میں عدالت سے منسلک مصالحت (Court-Annexed Mediation) اور کمرشل عدالتوں کے قیام سمیت متعدد قانونی اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن سے پاکستان میں ثالثی دوست قانونی ماحول مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے آئی میک کی عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام ایسے ماہر ثالث تیار کرے گا جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی کریں گے۔اس موقع پر آئی میک کی پراجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ رسول نے شرکاء کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے تربیت کاروں، شراکت دار اداروں اور جائزہ کاروں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی میک پیشہ وارانہ تربیت، بین الاقوامی منظوری، قانون سازی میں اصلاحات اور عالمی اشتراک کے ذریعے متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو ادارہ جاتی بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل سینٹر فار اپروپریئیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن اینڈ پریونشن (ICADRP) پاکستان اور انٹرنیشنل لا انسٹی ٹیوٹ (ILI) امریکہ کے تعاون کو بھی سراہا۔انٹرنیشنل لا انسٹی ٹیوٹ (ILI) امریکہ کے بین الاقوامی تربیت کار کارلوس ڈیویلا نے شرکاء کو "مستقبل کے ثالث” قرار دیتے ہوئے ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، تجزیاتی استعداد اور بھرپور شرکت کی تعریف کی جبکہ آئی سی اے ڈی آر پی کی تربیت کار ڈاکٹر ندرت پراچہ نے کہا کہ عالمی بہترین طریقہ کار، پیشہ وارانہ اخلاقیات اور مسلسل سیکھنے کا عمل پاکستان میں عالمی معیار کی ثالثی برادری کے قیام کے لئے ناگزیر ہے۔
شرکاء کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری محفوظ احمد بھٹی نے کہا کہ یہ تربیتی پروگرام ایک منفرد اور تبدیلی لانے والا تجربہ ثابت ہوا جس سے بین الاقوامی ثالثی کے بارے میں شرکاء کی سمجھ میں اضافہ اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں میں متبادل تنازعاتی حل کے طریقہ کار کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کا اعتماد پیدا ہوا۔تقریب کے اختتام پر تربیت کاروں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں جبکہ ارکان پارلیمان، سینئر سرکاری افسران، وکلا، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
آئی میک نے ماڈیول-I کی کامیاب تکمیل پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی معیار کی تربیت، پیشہ ورانہ منظوری، ادارہ جاتی استعداد کار، قانونی اصلاحات اور عالمی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو ثالثی اور تجارتی تنازعات کے حل کا ایک قابل اعتماد علاقائی مرکز بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔








