وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت جیل اصلاحات کے حوالے سے اہم ترین اجلاس، جیل ریفارمزپر اقدامات اور اوور کرائوڈنگ کے بحران کے حل کیلئے تفصیلی پلان پیش
وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت جیل اصلاحات کے حوالے سے اہم ترین اجلاس، جیل ریفارمزپر اقدامات اور اوور کرائوڈنگ کے بحران کے حل کیلئے تفصیلی پلان پیش

مزید خبریں
لاہور۔3جولائی (اے پی پی):وزیراعلی مریم نوازکی زیر صدارت جیل اصلاحات کے حوالے سے اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ،جس میں جیل ریفارمزپر اقدامات اور اوور کرائوڈنگ کے بحران کوحل کرنے کیلئے تفصیلی پلان پیش کیا گیا۔ اجلاس میں جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو حقیقی اصلاح گاہوں میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ننکانہ صاحب میں زیر تعمیر جیل کی ویڈیو رپورٹ پیش کی گئی اور جیل کو جلد مکمل کرنے کیلئے 1.3ارب روپے کے فنڈز منظورکیے گئے۔
وزیراعلی نے سمندری اور ننکانہ صاحب جیلوں کورواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف دیدیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں جیلوں کا دبائو کم کرنے کیلئے 27اضافی بیرکوں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ چنیوٹ اور مری میں بھی نئی جیلوں کی تعمیرپر کام تیزی سے جاری ہے۔ غریب اور لاچار قیدیوں کو کیسز لڑنے کیلئے باقاعدہ فارملائزڈ لیگل ایڈ ایجنسی کے ذریعے مفت قانونی مددفراہم کی جاری ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے جیل ہسپتالوں کی مسلسل اور باقاعدہ انسپکشن کا نظام نافذ ہے۔ وزیراعلی نے قیدیوں کی منتقلی کیلئے استعمال ہونے والی30 جیل وینز کو ایئر کنڈیشنڈبنانے اور ری ماڈل کرنے کا حکم دیا۔
ری ماڈل ہونے والی جیل وینز میں قیدیوں کیلئے واش روم، کیمرہ سکرینز اور بیک سپورٹ سیٹیں فراہم کی جائیں گی۔اس موقع پر جیلوں میں مردقیدی کے بخشی خانے کیلئے میٹرس فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں قیدیوں کیلئے بہترین اور معیاری ہفتہ وار ڈائٹ چارٹ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ وزیراعلی نے جیلوں میں قیدیوں کو دیئے جانے والے کھانے کے معیارکی باقاعدہ انسپکشن کویقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت کے جیل ریفارمزکے تحت قیدیوں کی سہولت کیلئے قیدی ویلفیئر سٹورز قائم کر دیئے گئے ہیں۔
جیلوں میں مقیم ماں اور 6 سال تک کی عمر کے بچوں کیلئے خصوصی فوڈ سپلیمنٹس اور نیوٹریشن کا آغاز کیا گیاہے۔ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں 3 نئی اور جدید ترین سہولیات سے مزین زنانہ جیلیں قائم کی جارہی ہیں۔ قیدیوں کے اہل خانہ کیلئے جیلوں میں آرام دہ ویٹنگ شیڈز، ٹرانسپورٹ کارٹس اور فیملی رومز دوبارہ فعال کیے جارہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیصل آباد اور بہاولپور کے جوینائل بروسٹل ہائوسز میں بچوں کی تعلیم اور سماجی تربیت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ وزیراعلی نے جیل میں قیدی بچوں کیلئے بہترین بیڈ، پلے ایریاز، ووکیشنل ٹریننگ اور تعلیم کے باقاعدہ انتظام کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلی پنجاب لٹریسی پروگرام کے تحت جیلوں کے اندر 4,141 قیدی تعلیم حاصل کرنے کیلئے رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک بیرک، ایک لائبریری پالیسی کے تحت جیلوں میں اب تک 472 قیدیوں نے میٹرک، 367 نے انٹر اور 140 نے گریجویشن مکمل کی۔ پنجاب کی 15 جیلوں میں مارکیٹ اورینٹڈ جیل انڈسٹری کامیابی سے آپریشنل کر دیئے گئے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعلی کو قیدیوں کا تیار کردہ بہترین فرنیچر، قالین، ٹف ٹائلز اور میلامائن کراکری کے تصویری نمونے پیش کیے گئے۔ جیلوں کے اندر بیوٹی سوپ، فینائل، واشنگ پائوڈر، ایل ای ڈی لائٹس، فٹ بال، گلوز اور ڈریس میکنگ کی انڈسٹری قائم ہیں۔
قیدیوں کو موبائل فون رپیئرنگ، موٹر سائیکل و ٹریکٹر رپیئرنگ، کمپیوٹر کورسز، ویلڈنگ اور کوکنگ کی عملی ٹریننگ دی جارہی ہے۔اجلاس میں جیلوں میں قیدیوں کے لیے جدید رمیشن مینجمنٹ سسٹم کے نفاذکا فیصلہ کیا گیا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ جیلوں میں مفت بائیومیٹرک ویریفکیشن کا نظام متعارف کرا دیا گیا۔ پنجاب کی جیلوں کو سکیورٹی اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے وائس اینڈ پینک الرٹس اور ایکسرے سسٹم نصب کیے جارہے ہیں۔ انٹیگریٹڈ کرمنل سسٹم کوآرڈینیشن کے تحت سکیورٹی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید سخت کر دیا گیا۔ لاہور سمیت مختلف اضلاع کے 11 بخشی خانوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ وزیر اعلی نے جوینائل (کم عمر قیدیوں کی) جیلوں کو اپ گریڈ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ جیل کی ایک ایک چیز سے خود کو ریلیٹ کر سکتی ہوں کیونکہ سب خود دیکھا ہے۔
جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی انسانی وقار اور حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعلی کو سیکرٹری ہوم نے جیل اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی اورادارے کی کارکردگی پر شاباش دی۔ بریفنگ میں مزید بتایا کہ قیدیوں کی منتقلی کے ریشنل سسٹم کے تحت 2024 سے اب تک2,554 قیدیوں کو ہوم ڈسٹرکٹ جیلوں میں شفٹ کیا گیاہے۔ پنجاب بھر کے تمام قیدیوں کو آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت میسر ہے۔پنجاب میں جیلوں کی گنجائش 30 ہزار سے بڑھا کر 39 ہزار کر دی گئی ہے۔
پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد 68 سے 79 ہزار تک ہے۔ جیلوں میں انڈر ٹرائل قیدیوںکی بڑھتی ہوئی تعداد 73 فیصد تک پہنچ گئی۔ سال 2027 تک جیلوں کی گنجائش کو مزید بڑھا کر 43,718تک پہنچایا جائے گا۔ فیصل آباد، ڈی جی خان اور پنڈی بھٹیاں سمیت پنجاب کی 5 بڑی جیلیں مکمل طور پر سولر توانائی پر منتقل کر دی گئی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2026 سے جون 2026 تک 91,266 قیدیوں کی میڈیکل سکریننگ اور علاج کیا گیا۔ جیلوں میں قیدیوں کی ذہنی صحت کی بہتری کے لیے 74 پروفیشنل ماہرِ نفسیات کی خدمات حاصل کی گئیں۔
جیلوں میں قیدیوں کو دن میں 3 مرتبہ معیاری کھانا، چکن، موسمی سبزیاں اور دالیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ مذہبی تہواروں پر قیدیوں کے لیے خصوصی اور وی آئی پی مینو فراہم کیا جاتا ہے۔ خواتین قیدیوں کے لیے جیلوں میں خصوصی ہائیجین کٹس اور بہتر ٹوائلٹس فراہم کیے گئے ہیں۔ بریفنگ میں مزید تبایا گیا کہ قیدیوں کے لئے اہل خانہ سے پی سی او کے ذریعے ہر ہفتے 80 منٹ کی آڈیو گفتگو کی سہولت بھی میسر ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں 30 ہزار قیدیوں کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام، سپورٹس اور جم بھی قائم کیے گئے۔ عدالتوں میں تیز رفتار ٹرائل اور موثر پروبیشن و پیرول سسٹم پر کام شروع کر دیا ہے۔








