کمالیہ یونیورسٹی میں 17لاکھ ڈالر کے عالمی کلین انرجی منصوبے کا آغاز، زرعی فضلے کو توانائی اور صنعتی ایندھن میں بدلنے کی نئی راہیں کھل گئیں

کمالیہ یونیورسٹی میں 17لاکھ ڈالر کے عالمی کلین انرجی منصوبے کا آغاز، زرعی فضلے کو توانائی اور صنعتی ایندھن میں بدلنے کی نئی راہیں کھل گئیں

فیصل آباد۔ 04 جولائی (اے پی پی):زرعی باقیات اور زرعی فضلے کو صاف صنعتی ایندھن، بجلی، حرارت اور ماحول دوست نامیاتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے 17 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے بین الاقوامی ”سیفر پلس کلین انرجی پراجیکٹ” کا یونیورسٹی آف کمالیہ میں باضابطہ افتتاح کر دیا گیا۔ ماہرین نے اس منصوبے کو پاکستان میں توانائی کے تحفظ، زرعی فضلے کے مؤثر استعمال، صنعتی شعبے کی کاربن اخراج میں کمی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کی جانب ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف جدید تحقیق اور جدت طرازی کو فروغ دے گا بلکہ نوجوانوں، کسانوں، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط اشتراک کی نئی راہیں بھی ہموار کرے گا۔

یونیورسٹی آف کمالیہ کے ترجمان کے مطابق، صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن لاہور میں منعقدہ یونیورسٹی آف کمالیہ کی 13ویں سنڈیکیٹ کے اجلاس کے دوران 17 لاکھ امریکی ڈالر کے ”سیفر پلس کلین انرجی پراجیکٹ” کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ یہ منصوبہ ایک بین الاقوامی کلین انرجی اور اپلائیڈ ریسرچ پروگرام ہے جس کا بنیادی مقصد زرعی باقیات اور ایگرو ویسٹ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صاف صنعتی ایندھن، بجلی، حرارت اور ویلیو ایڈڈ نامیاتی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت یونیورسٹی آف کمالیہ میں جدید کلین انرجی ڈیمانسٹریشن یونٹ قائم کیا جائے گا جو زرعی فضلے کے مؤثر استعمال، صنعتی شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی، ماحولیات کے تحفظ اور خطے کی پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں اس نوعیت کی تحقیق توانائی کے متبادل ذرائع پیدا کرنے اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے ذریعے عملدرآمد کیا جا رہا ہے جس میں یونیورسٹی آف کمالیہ، نارتھمبریا یونیورسٹی برطانیہ، ایکو ریسرچ لمیٹڈ برطانیہ، نو ٹیکس سلوشنز اور دیگر بین الاقوامی شراکت دار شامل ہیں۔

یہ منصوبہInnovate UK کے انرجی کیٹالسٹ راؤنڈ 11 کے تحت منظور کیا گیا ہے اور پاکستان کے توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل اور ماحولیات کے شعبوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ افتتاحی تقریب میں بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے سینئر نمائندوں نے بھی شرکت کی جن میں نارتھمبریا یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر پروفیسر لوئیس بریکن، پراجیکٹ لیڈ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جبران خالق، نارتھمبریا یونیورسٹی کے ڈاکٹر شاہد رسول اور ایکو ریسرچ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد صغیر شامل تھے۔ یونیورسٹی آف کمالیہ کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب کے علاوہ ڈاکٹر سرمد مسعود بھی پراجیکٹ ٹیم کا حصہ ہیں۔

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم رانا سکندر حیات نے یونیورسٹی آف کمالیہ اور کنسورشیم کے تمام شراکت داروں کو قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل منصوبے کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صاف توانائی، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت، نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ اور صنعت سے منسلک تحقیق پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پنجاب حکومت، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزارت اعلیٰ تعلیم کے اس وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے جس کا مقصد معیاری اعلیٰ تعلیم، جدت، روزگار کے نئے مواقع، کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔

نارتھمبریا یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر پروفیسر لوئیس بریکن نے اس شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ”SAFER PLUS” اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تحقیقی تعاون کے ذریعے حقیقی مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے برطانیہ اور پاکستان کے تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان مشترکہ تحقیق، پوسٹ گریجویٹ تربیت، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور علم و تجربات کے تبادلے کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

ڈاکٹر جبران خالق، ڈاکٹر شاہد رسول اور ڈاکٹر محمد صغیر نے منصوبے کو کلین انرجی میں جدت، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی استعمال، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت، مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مثبت اثرات نہ صرف تعلیمی شعبے بلکہ ملکی معیشت اور صنعت پر بھی مرتب ہوں گے۔

وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے منصوبے کے مقاصد، متوقع نتائج اور اس کی قومی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”سیفر پلس” یونیورسٹی آف کمالیہ کو تحقیق پر مبنی اور معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ پبلک سیکٹر جامعہ بنانے کی سمت ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اس امر کی عملی مثال ہے کہ جامعات توانائی کے تحفظ، زرعی فضلے کے مؤثر استعمال، ماحولیاتی پائیداری، صنعتی مسابقت اور دیہی ترقی جیسے قومی چیلنجز کے قابلِ عمل اور دیرپا حل فراہم کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے طلبہ، محققین، اساتذہ، کسانوں، مقامی آبادی اور صنعتی شراکت داروں کے لیے نئی تحقیق، تربیت، اختراع اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ مستقبل میں اسے پنجاب سمیت دیگر زرعی علاقوں میں کلین انرجی ہب کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکے گا جس سے ملک میں پائیدار ترقی اور ماحول دوست صنعتی نظام کے فروغ میں نمایاں مدد ملے گی۔