وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پیر کے روز اجلاس ہوا جس کے دوران ضم اضلاع میں امن و امان، گورننس اور ترقیاتی پروگرام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اجلاس ،ضم اضلاع میں امن و امان، گورننس اور ترقیاتی پروگرام سے متعلق امور کا جائزہ لیا

مزید خبریں
پشاور۔ 06 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پیر کے روز اجلاس ہوا جس کے دوران ضم اضلاع میں امن و امان، گورننس اور ترقیاتی پروگرام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ۔ترجمان سی ایم ہائوس کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن دی۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ تین ماہ میں عوام کو خدمات کی فراہمی میں واضح اور عملی تبدیلی نظر آنی چاہیے،انہوں نے شمالی وزیرستان میں ترقیاتی سرگرمیاں ایک ہفتے کے اندر بحال کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے درکار افسران اور اہلکار فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ ضم اضلاع میں آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں آؤٹ آف سکول بچوں کو داخل کرانے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے ضم اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہنگامی بنیادوں پر پوری کرنے کی ہدایت بھی کی۔وزیراعلیٰ نے آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے متعلقہ وفاقی حکام کو خطوط لکھنے کی ہدایت کی۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضم اضلاع فرنٹ لائن پر ہیں، جدید اسلحہ اور گیجٹس کی فراہمی میں ضم اضلاع کو پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کا ازسرنو جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق مزید ڈاکٹرز بھرتی کیے جائیں گے۔اجلاس میں عوام کی سہولت کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ پولیس سہولت مراکز کے قیام پر وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو شاباش دی ۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ عوام کو سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینی ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو۔








