سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج، ایس پی ایس سی کی سی سی ای-2024 کی بھرتی کا عمل بحال کرنے کی استدعا

سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج، ایس پی ایس سی کی سی سی ای-2024 کی بھرتی کا عمل بحال کرنے کی استدعا

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی ) نے کمبائنڈ کمپیٹیٹو امتحان (سی سی ای-2024) سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ احکامات آئین، قانون اور سپریم کورٹ کے نظائر کے منافی ہیں، لہٰذا انہیں معطل کرکے بھرتی کا عمل بحال کیا جائے۔سندھ پبلک سروس کمیشن نے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت میں تین علیحدہ وفاقی آئینی پٹیشنز برائے اجازتِ اپیل (FCPLAs نمبر 1617، 1618 اور 1619 برائے 2026) دائر کی ہیں۔ درخواستوں میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچ نمبر ایک کی جانب سے 14 مئی، 21 مئی، 9 جون، 17 جون، 22 جون اور 30 جون 2026 کو جاری کئے گئے عبوری احکامات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایسے عبوری احکامات جاری کئے جو قانوناً Coram Non Judice ہیں جبکہ درخواست گزاروں کے لئے سندھ پبلک سروس کمیشن کے ریکروٹمنٹ مینجمنٹ ریگولیشنز 2023 کے ریگولیشن 161 کے تحت مؤثر متبادل قانونی فورم پہلے سے موجود تھا۔کمیشن کے مطابق کمبائنڈ کمپیٹیٹو امتحان 2024 مکمل شفافیت کے ساتھ سندھ پبلک سروس کمیشن ایکٹ 2022، ریکروٹمنٹ مینجمنٹ ریگولیشنز 2023 اور مقررہ نصاب کے مطابق منعقد کیا گیا۔

امتحان کے لئے 26 ہزار 742 امیدواروں نے درخواستیں دیں جن میں سے 17 ہزار 290 امیدوار سکریننگ ٹیسٹ میں شریک ہوئے، 11 ہزار 179 کامیاب قرار پائے جبکہ تحریری امتحان میں 4 ہزار 340 امیدواروں نے حصہ لیا۔ آزاد اور غیر جانبدار ماہرین نے جوابی کاپیوں کی جانچ کی اور مقررہ معیار کے مطابق صرف 70 امیدوار کامیاب قرار پائے جبکہ 4 ہزار 270 امیدوار مطلوبہ نمبر حاصل نہ کر سکے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہی ناکام امیدوار بعد ازاں سی سی ای-2025 کے سکریننگ ٹیسٹ میں شریک ہوئے اور کامیاب بھی قرار پائے، جو ان کے شفافیت سے متعلق الزامات کی نفی کرتا ہے۔ کمیشن کے مطابق تمام امیدواروں کے مضمون وار نمبر ویب سائٹ پر جاری کئے گئے اور ہر امیدوار کو ریگولیشن 161 کے تحت نمائندگی اور اپیل کا حق بھی دیا گیا۔

کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کے نتیجے میں امتحانی ریکارڈ سیل کرنے، نتائج کے نوٹیفکیشن معطل کرنے، خفیہ جوابی کاپیوں کی پیشی، دوبارہ جانچ اور آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے وائس چانسلر کے ذریعے ری اسیسمنٹ جیسے اقدامات کا حکم دیا گیا جو ریکروٹمنٹ مینجمنٹ ریگولیشنز 2023 کے ریگولیشن 70(C) اور 81 کے خلاف ہیں اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں سے بھی متصادم ہیں۔درخواستوں میں مزید کہا گیا کہ ہائی کورٹ نے کمیشن اور حکومت سندھ کو مؤثر سماعت کا موقع دیئے بغیر یکطرفہ عبوری احکامات جاری کئے جو آئین کے آرٹیکل 4، 10-A اور آرٹیکل 199(3A) کی روح کے منافی ہیں۔ کمیشن کے مطابق عدالت نے درخواستوں کے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے خود کو تحقیقاتی ادارے کے طور پر استعمال کیا، جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا اور کسی قانونی انکوائری یا قابل قبول شہادت کے بغیر کمیشن، اس کے افسران اور ممتحنین کے خلاف منفی ریمارکس دیئے۔

درخواست میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ ہائی کورٹ نے چیئرمین اور اراکین کمیشن کی تعلیمی اسناد طلب کیں حالانکہ ان کی تقرری یا اہلیت کسی درخواست میں چیلنج ہی نہیں کی گئی تھی۔ کمیشن کے مطابق یہ اقدام آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز اور غیر ضروری تحقیق کے مترادف ہے۔کمیشن نے وفاقی آئینی عدالت کو بتایا کہ ان عبوری احکامات کے باعث سی سی ای-2024 کے کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز سمیت پورا بھرتی کا عمل رکا ہوا ہے جس سے نہ صرف سرکاری انتظامی معاملات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کامیاب امیدواروں کی جائز توقعات بھی مجروح ہو رہی ہیں۔

درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیل کی اجازت دی جائے، سندھ ہائی کورٹ کے تمام عبوری احکامات معطل اور بعد ازاں کالعدم قرار دیئے جائیں، جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ اور خفیہ ریکارڈ کے افشا کو روکا جائے، متعلقہ آئینی درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی جائیں، کمیشن اور اس کے افسران کے خلاف دیے گئے منفی ریمارکس حذف کئے جائیں اور سی سی ای-2024 کی بھرتی کا عمل 14 مئی 2026 سے قبل کی پوزیشن پر بحال کرتے ہوئے کمیشن کو آئین اور ریکروٹمنٹ مینجمنٹ ریگولیشنز 2023 کے مطابق کارروائی مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔

مزید برآں کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 175E(5) کے تحت وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ التوا تمام متعلقہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت منتقل کئے جائیں تاکہ اس معاملے میں مشترکہ آئینی سوالات پر ایک جامع، حتمی اور یکساں فیصلہ صادر کیا جا سکے۔