"خیبرپختونخوا حکومت کا پرفارمنس فریم ورک بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر عوامی خدمات اور سرکاری اداروں میں شفافیت و جوابدہی کے فروغ کی جانب اہم اقدام ہے۔”
خیبرپختونخوا حکومت کا کارکردگی بڑھانے کے لئے پرفارمنس فریم ورک متعارف ،صحت اور انسدادِ پولیو کے لئے اہداف مقرر

مزید خبریں
پشاور۔ 06 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کے معیار میں بہتری اور سرکاری اداروں میں جوابدہی کو فروغ دینے کے لیے پرفارمنس فریم ورک کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں محکمہ صحت، انسدادِپولیو پروگرام اور توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے ساتھ کارکردگی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔یہ فریم ورک حکومت کی وسیع اصلاحاتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت مختلف محکموں کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور کارکردگی جانچنے کا مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔یہ معاہدے حکومتِ خیبرپختونخوا کی جانب سے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز کے درمیان متعلقہ وزراء کی موجودگی میں طے پائیں گے۔ محکمہ صحت اور انسدادِپولیو سے متعلق ایگریمنٹ کی تقریب چیف سیکرٹری آفس میں منعقد ہوئی۔تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) محمد عابد مجید اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات لیفٹیننٹ (ر) اسلام زیب نے بھی شرکت کی۔محکمہ صحت کے ساتھ کارکردگی معاہدے پر چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان نے دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت محکمہ صحت نے صوبے بھر کے بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور دیہی مراکز صحت (آر ایچ سیز) میں 500 نئے ڈاکٹرز بھرتی کرکے تعینات کرنے کا حدف مقررکیا ہے تاکہ کوئی بھی مرکز ڈاکٹر سے محروم نہ رہے۔اسی طرح 250 بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کو چوبیس گھنٹے زچگی کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل بنایا جائے گا، جس سے دور دراز علاقوں کی خواتین کو محفوظ اور بروقت طبی سہولتیں میسر آئیں گی اور زچگی کے دوران اموات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔محکمہ صحت نے صوبے بھر میں بنیادی اور جامع ایمرجنسی زچہ و بچہ مراکز کی تعمیر، اپ گریڈیشن اور بحالی کا بھی حدف مقررکیا ہے تاکہ ماں اور نومولود بچوں کی صحت کی سہولیات مزید بہتر بنائی جا سکیں۔اس کے علاوہ صوبے کے 62 ضلعی سطح کے ثانوی ہسپتال پیشہ ورانہ اداروں کے سپرد کیے جائیں گے تاکہ ہسپتالوں کے انتظامی نظام اور طبی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔بعد ازاں پولیو کے خاتمے کے لیے بھی ایک الگ کارکردگی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے پر چیف سیکٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) پولیو کے کوآرڈینیٹر شفیع اللہ خان اور ای پی آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سہیل فاروقی نے دستخط کیے، جبکہ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) محمد عابد مجید اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات لیفٹیننٹ (ر) اسلام زیب تقریب میں موجود تھے۔اس سہ فریقی معاہدے کے تحت محکمہ صحت، ای او سی پولیو اور توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (ای پی ائی) نے پولیو کے خاتمے کے لیے مشترکہ اہداف مقرر کیے ہیں۔معاہدے کے مطابق جنوبی اضلاع کے بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں 150 مزید ڈاکٹرز تعینات کیے جائیں گے تاکہ پولیو کے خلاف مہم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ای او سی پولیو نے جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو مہم کے دوران رہ جانے والے بچوں کی تعداد 10 ہزار سے کم کرنے اور پشاور، بنوں اور شمالی وزیرستان میں مسلسل دو مہمات کے دوران ماحولیاتی نمونوں کو پولیو وائرس سے پاک بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اسی طرح ای پی آئی نے صوبے میں 97 فیصد سے زائد ویکسینیشن مراکز کو فعال رکھنے اور بچوں کی مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 85 فیصد تک بڑھانے کا عزم کیا ہے تاکہ بچوں کو پولیو سمیت دیگر قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں حکومت نے صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ریکارڈ بجٹ مختص کیا ہے، تاہم اس شعبے میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ صوبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صحت کے شعبے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور حکومت کا مقصد صوبے کے ہر شہری کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر صحت، سیکرٹری صحت اور پوری ٹیم صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ہر بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر موجود ہو، زچہ و بچہ کی چوبیس گھنٹے طبی سہولیات دستیاب ہوں اور کمزور کارکردگی والے ہسپتالوں کی حالت بہتر بنائی جائے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہسپتالوں کو پیشہ ور اداروں کے سپرد کرنے کی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ضلع اورکزئی کے مشتی میلہ ہسپتال کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ انتظام سنبھالنے کے بعد وہاں طبی خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لیے ہر بچے تک رسائی، رہ جانے والے بچوں کو ویکسین لگانے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ پرفارمنس ایگریمنٹ فریم ورک سرکاری اداروں میں کارکردگی، جوابدہی اور نتائج پر مبنی نظام متعارف کرانے کی ایک اہم اصلاح ہے۔ اس کے ذریعے اعلیٰ حکام مختلف محکموں اور افسران کی کارکردگی کو واضح اہداف کی بنیاد پر جانچ سکیں گے، جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کو نہ صرف پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع ملیں گے بلکہ عوام کو بھی بہتر سرکاری خدمات فراہم ہوں گی۔








