پنجاب کے اثاثوں کا حساب رکھنے اور موثر مینجمنٹ کیلئے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب قائم کرنے کا فیصلہ

پنجاب کے اثاثوں کا حساب رکھنے اور موثر مینجمنٹ کیلئے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب قائم کرنے کا فیصلہ

لاہور۔6جولائی (اے پی پی):وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب کے اثاثوں کی پائی پائی کا حساب رکھنے اور موثر مینجمنٹ کیلئے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب(AMAP) قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔پنجاب کے تمام بکھرے وسائل اور زمینیں اب ایک چھت تلے مینج ہونگی اورریونیو جنریشن کو مزید موثر ہوگا۔ وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب (AMAP) کے قیام کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب کے قیام اور اس کے مجوزہ قانونی فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی صوبائی اثاثوں کی شناخت، مینجمنٹ، منتقلی، ادائیگیوں اور مارکیٹنگ کی ذمہ دار ہوگی۔ سرکاری اراضی کا کنٹرول سنبھالنے سے لیکر اس کی لیز یا فروخت تک کے تمام معاملات اب ایک ہی ادارے کے سپرد ہوں گے۔ ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کا ایک اعلی اختیاراتی بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف سیکرٹری پنجاب ہوں گے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اتھارٹی کے انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے گریڈ 20 کے مینیجنگ ڈائریکٹر کا تعینات کیا جائے گا۔

ا یسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے بورڈ میں میرٹ اور اوپن مقابلے کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر سے ماہر ہیومن ریسورس شامل کیا جائے گا۔ ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی میں جدید مہارتوں سے لیس ہیومن ریسورس کی تعینات ہوگا۔ اتھارٹی سرکاری اثاثوں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کرے گی اور ان کی باقاعدگی سے مارکیٹ ویلیو ایشن کو یقینی بنائے گی۔صوبائی اثاثوں کی منتقلی کیلئے سائٹس کا انتخاب، ڈویلپمنٹ پلانز اور ماسٹر پلانز کی تیاری اتھارٹی کے سپرد ہوگی۔ منتقل شدہ اثاثوں کی مارکیٹنگ، تشہیر اور ان کی ٹرانزیکشن کے ڈھانچے کی ڈیزائننگ اور منظوری اتھارٹی خود دے گی۔

سرمایہ کاری اور نجکاری کی صلاحیت رکھنے والے سرکاری اثاثوں کی نشاندہی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔ اثاثوں پر انویسٹمنٹ کے لیے لیز، رینٹل، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور جوائنٹ وینچر (JV) جیسے طریقے استعمال کیے جائیں گے۔ پراجیکٹس کی فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری،کنٹریکٹ مینجمنٹ، نفاذ اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن کا کام ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کرے گی۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے صوبائی اثاثوں کی فروخت، لیز اور کولیٹرل فنانسنگ کے ذریعے بہتر ریونیو جنریشن کی ہدایت کی اور کہا کہ موثر ریسورس مینجمنٹ کے لئے پنجاب کو معلوم ہونا چاہیے کہ صوبے کی ملکیت میں کون کون سے اثاثے موجود ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے بکھرے ہوئے اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پہلے کوئی واحد ادارہ موجود نہیں تھا۔ صوبائی اثاثوں کی ملکیت الگ الگ محکموں کے پاس بکھری ہوئی ہے جن کا کوئی مرکزی ریکارڈ نہیں۔ اثاثوں کی ویلیو ایشن نہ ہونے اور اراضی کے غیر تسلی بخش استعمال کی وجہ سے ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے۔ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کا خطرہ رہتا ہے اور قیمتی اثاثوں کی بازیابی کے لیے مہنگی قانونی چارہ جوئی کرنا پڑتی ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبائی اثاثوں کی مکمل دیکھ بھال اور انتظام کے لیے اب ایک ہی خود مختار ادارہ کام کیا جائے گا۔

وزیراعلی مریم نواز شریف نے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کے شاندار آئیڈیا کی بھرپور تعریف کی۔ اس موقع پر پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کا گورننس اور اپروول سٹرکچر اجلاس میں پیش کیا جائے گا جس کی کابینہ کمیٹی حتمی منظوری دے گی۔ اثاثوں کی منتقلی، تشخیص اور مینجمنٹ کے تمام معاملات صوبائی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوں گے۔ اجلاس میں ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب کا مکمل پراسیس فلو وزیراعلی مریم نواز شریف کے سامنے پیش کیا گیا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پراجیکٹس سے حاصل ہونے والی نیٹ آمدن کا 98 فیصد حصہ براہِ راست صوبائی خزانے میں جمع ہوگا۔ پراجیکٹس کی آمدن کا صرف 2 فیصد حصہ اتھارٹی ملازمین کی تنخواہوں اور آپریشنل اخراجات کے لیے اپنے پاس رکھ سکے گی۔ ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے مالیاتی امور کو شفاف بنانے کے لیے ایک مخصوص AMAPفنڈ قائم کیا جائے گا۔ ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کا بورڈ 11 ارکان پر مشتمل ہوگا۔ اجلاس میں ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کا قانون فوری طور پر لانے کابھی فیصلہ کیا گیا۔