سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے ‘وارنٹس آف پریسیڈنس’ میں جامع اصلاحات کے لیے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعدد اہم بلز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا ‘وارنٹس آف پریسیڈنس’ میں جامع اصلاحات کے لئے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ، متعدد اہم بلز کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے ’’وارنٹس آف پریسیڈنس‘‘ (مراتبِ ترجیح) میں موجود تضادات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فریم ورک پر جامع نظرثانی کے لئے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اس دیرینہ معاملے کو حل کرنے کے لئے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں پارلیمانی نمائندگی کے ساتھ نظرثانی کمیٹی قائم کی جائے اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ساتھ مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
یہ فیصلے پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر رانا محمود الحسن کی صدارت میں منعقدہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے۔ اجلاس میں سینیٹرز انوشہ رحمان، سعدیہ عباسی، محمد عبدالقادر، عطا الرحمٰن، ایمل ولی خان، امیر ولی الدین چشتی (بذریعہ زوم) اور بلز کی محرک سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے مراتبِ ترجیح پر نظرثانی میں 2008 سے جاری طویل تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی آئینی بالادستی کے باوجود گورنر سٹیٹ بینک اور چیف الیکشن کمشنر جیسے عہدیداران مراتبِ ترجیح میں منتخب اراکینِ پارلیمنٹ سے اوپر ہیں۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حساس نوعیت کے باعث کابینہ ڈویژن کی کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا تاہم سفارشات وزیراعظم آفس کے زیر غور ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے وزیر اعظم کو خط لکھنے اور وزارتِ قانون کے تحت دونوں ایوانوں کی نمائندگی کے ساتھ نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے نجی ممبران کے دو اہم ترمیمی بلز کا بھی جائزہ لیا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (ترمیم) بل 2025 پر لا ءڈویژن نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت صوبائی موضوعات پر ترمیم کے لئے تمام صوبائی اسمبلیوں کی قراردادیں لازم ہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پی ڈی ایم ایزکے فنڈز کی نگرانی مضبوط بنانے اور آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کرانے پر زور دیا۔ کمیٹی نے تفصیلی مشاورت کے بعد یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کو منتقل کر دیا۔ فیڈرل ایمپلائز بینولنٹ فنڈ اینڈ گروپ انشورنس (ترمیم) بل 2026 بل کے تحت سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر کٹوتی کی رقم کی واپسی کا اختیار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ سرکاری حکام نے مالیاتی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی جس پر چیئرمین کمیٹی نے بل کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور تعمیری اصلاحات تجویز کرنے کے لئے ایک خصوصی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔کمیٹی نے فیڈرل ایمپلائز بینولنٹ فنڈکے تحت 2012 میں بھرتی ہونے والے اور 2023 کی انکوائری کے بعد فارغ کئے گئے ملازمین کی برطرفی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ غیر قانونی تعیناتیوں کے ذمہ دار افسران کو چھوڑ کر صرف ملازمین کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟ کمیٹی نے انسانی ہمدردی اور ملازمین کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق متاثرہ ملازمین کی بحالی کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کا حکم دیا۔محرک کی عدم موجودگی کے باعث نیپرا کی جانب سے بجلی کے ٹیرف، استعدادی ادائیگیوں اور توانائی سے متعلق بریفنگ کو آئندہ اجلاس تک کے لئے مؤخر کر دیا گیا۔








