شام کی صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے خطے میں اپنا اہم کردار بحال کر لیا اور اب ایک مکمل نظام موجود ہے کیونکہ ہم نے اپنے بحری اور فضائی بیڑے کو جدید بنا لیا ہے۔
فرانس کو اقتصادی پارٹنر د یکھنے کے خواہاں،اسرائیلی کارروائیاں رکوانے کے لیے پیرس پر انحصار کر رہے ہیں، شام

مزید خبریں
دمشق۔8جولائی (اے پی پی):شام کی صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے خطے میں اپنا اہم کردار بحال کر لیا اور اب ایک مکمل نظام موجود ہے کیونکہ ہم نے اپنے بحری اور فضائی بیڑے کو جدید بنا لیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات انہوں نے دارالحکومت دمشق کے قصر الشعب میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے ساتھ منعقدہ اقتصادی فورم کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم فرانس کو شام کا اقتصادی پارٹنر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نے شام میں جلد سرمایہ کاری کی اس نے جلد منافع کمایا اور یہ کہ فرانس کے ساتھ تزویراتی شراکت داری اس تعلق کی ایک مثال ہے جو ہم دنیا کے ساتھ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک جدید سرمایہ کاری کا ماحول تعمیر کر رہے ہیں جس کی حکمرانی ادارے کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ کام کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے بینکنگ اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شامی صنعتی شہر عالمی سرمایہ کاری کے لیے نئے پلیٹ فارمز بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں کو حقیقی شراکت داری کے ذریعے تعمیر نو میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر نے کہا کہ شام کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ہماری کمپنیوں کے لیے بھی مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرانس شامی بینکنگ سیکٹر کی تعمیر نو میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا مقصد شام میں نیا اعتماد پیدا کرنا اور معیشت کی بحالی میں مدد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس شام کے لیے ایک مفید شراکت دار ہے اور اس نے ہمیشہ شامی عوام کے مفادات کی حمایت کی ہے۔ بعد ازاں فرانسیسی صدر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ ان کا شام کا دورہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی چیز شامیوں کی مکمل خودمختاری اور سکیورٹی کے حامل ملک میں رہنے کی خواہش کو کمزور نہیں کر سکتی۔
دریں اثنا شامی صدر احمد الشرع نے دارالحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ اپنے ملک کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے فرانس کے فعال کردار پر انحصار کر رہے ہیں۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ہونے والے منظم حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کشیدگی کو روکنے اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے فرانس کے فعال کردار کے منتظر ہیں۔ شامی صدر نے کہا کہ ان کےاور فرانسیسی صدر کے درمیان دونوں ممالک میں سفیروں کی دوبارہ تعیناتی پر اتفاق ہوا ہے۔ شامی صدر نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے دمشق اور پیرس کے درمیان جلد مستقل سفیروں کے تبادلے کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات معمول پر لانے کی جانب اہم پیش رفت ہوگی۔








