کیوبا کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت

کیوبا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ ۔8جولائی (اے پی پی):کیوبا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔ شنہوا کے مطابق کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگیز نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکا کی جانب سے کیوبا پر عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت سے متعلق مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ کیوبا کے خلاف تقریباً7دہائیوں سے غیر روایتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جو7ماہ کے دوران مزید سخت ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بارہا کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے علاوہ غیر معمولی حد تک سرحدوں سے ماورا (ایکسٹرا ٹیریٹوریل) اقدامات بھی کیے ہیں، جن کا مقصد کیوبا میں انسانی بحران پیدا کرنا اور ملک کو مکمل طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔ بحث کے آغاز میں اقوامِ متحدہ میں انتظامی امور اور اصلاحات کے لیے امریکا کے نمائندے جیفری بارٹوس نے اس موضوع پر دوبارہ بحث کرانے کی مخالفت کی۔

بعد ازاں انہوں نے ایجنڈے کے اس نکتے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ریکارڈ شدہ ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں جنرل اسمبلی نےووٹنگ کے ذریعے اس موضوع پر بحث جاری رکھنے کی منظوری دے دی جس کی حمایت میں 136 ، مخالفت میں 9 ووٹ پڑے جبکہ 30 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اپنی تقریر میں کیوبا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کیوبا کے عوام کو درپیش انسانی مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں معیارِ زندگی متاثر ہوا، روزگار اور ذریعہ معاش محدود ہوئے، ذاتی، خاندانی اور سماجی ترقی کے مواقع کم ہوئے اور عوام کے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر، کھلے عام اور مسلسل خلاف ورزی کی گئی جسے انہوں نے اجتماعی سزا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت یہ غلط تاثر پھیلا رہی ہے کہ یہ پابندیاں کیوبا کے عوام کو نشانہ نہیں بناتیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جاننا چاہتے ہیں تو کیوبا کے عوام سے پوچھیں کہ آیا وہ ان پابندیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں یا نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث کیوبا کو موجودہ قیمتوں کے حساب سے مجموعی طور پر 178.7 بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا کے خلاف موجودہ دشمنی اور دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے ایک تشویشناک سلسلے کا حصہ ہیں اور مستقبل میں کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کا دفاع ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کیوبا کی حکومت کی جانب سے کبھی بھی ایسا کوئی بیان، ثبوت یا اشارہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کیوبا نے امریکا کو دھمکی دینے کا ارادہ کیا ہو۔ کیوبا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دھمکیوں کا سامنا دراصل کیوبا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا ایک ایسا ملک ہے جو امن، بین الاقوامی قانون، کثیرالجہتی نظام، سچائی اور انصاف کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔