چین کا اعلیٰ ترین سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈ چین کے لیتھیم بیٹری کے بانی چن لی چوان اور ریڈار ٹیکنالوجی کے ماہر بین دے نے اپنے نام کر لیا ۔ شنہوا کے مطابق چن لی چوان جو 1940 میں پیدا ہوئے
چین کا اعلیٰ ترین سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈ لیتھیم بیٹری کے بانی چن لی چوان اور ریڈار ٹیکنالوجی کے ماہربین دے کےنام
بیجنگ۔8جولائی (اے پی پی):چین کا اعلیٰ ترین سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈ چین کے لیتھیم بیٹری کے بانی چن لی چوان اور ریڈار ٹیکنالوجی کے ماہر بین دے نے اپنے نام کر لیا ۔ شنہوا کے مطابق چن لی چوان جو 1940 میں پیدا ہوئے، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے محقق اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ (سی اے ای ) کے رکن ہیں، انہیں چین میں لیتھیم بیٹری صنعت کا بانی، پیش رو اور رہنما تصور کیا جاتا ہے۔بین دے جو 1938 میں پیدا ہوئے، چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن کے محقق اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے رکن ہیں، انہیں چین میں فضائی پلس ڈوپلر ریڈار ٹیکنالوجی کے بانی، فیزڈ ارے ریڈار ٹیکنالوجی کے اہم پیش رو اور خلائی نگرانی کے ریڈار کے اولین ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ایک خصوصی تقریب میں دیا گیا، جس میں قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے جنرل اجلاس، اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی گیارہویں قومی کانگریس منعقد ہوئی۔تقریب میں مجموعی طور پر 258 منصوبوں اور 11 سائنس دانوں و ماہرین کو اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں 51 منصوبوں کو ریاستی قدرتی سائنس ایوارڈ، 58 منصوبوں کو ریاستی تکنیکی اختراع ایوارڈ اور 149 منصوبوں کو ریاستی سائنس و ٹیکنالوجی ترقی ایوارڈ دیا گیا۔اعلیٰ ترین قومی اعزاز کے دو وصول کنندگان کے علاوہ 9 ماہرین کو چائنا انٹرنیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوآپریشن ایوارڈ بھی دیا گیا۔









