پاکستان کا ہدف 2035 تک چاند پر قومی مشن بھیجنا اور 2047 تک قمری موجودگی قائم کرنا ہے، پروفیسر احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ نوجوان انجینئرز، سائنسدان اور آئی ٹی ماہرین عالمی خلائی صنعت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ نوجوان انجینئرز، سائنسدان اور آئی ٹی ماہرین عالمی خلائی صنعت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں، پاکستان کا ہدف 2035 تک چاند پر قومی مشن بھیجنا اور 2047 تک قمری موجودگی قائم کرنا ہے۔ جمعہ کو یہاں وزارت منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے ناسا حکام اور امریکی ایرو سپیس کمپنیوں کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں نارووال میں سپیس ایکسپلوریشن سینٹر کے قیام کے منصوبہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نوجوانوں میں سائنسی جستجو، تحقیق اور جدت کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے قومی سپیس ایجوکیشن پروگرام پر کام کر رہی ہے اور سپیس لرننگ سینٹر نئی نسل کو کائنات، سائنس اور خلائی تحقیق سے روشناس کرانے کا قومی منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان دنیا کا قیمتی ٹیلنٹ ہیں، ناسا کے اشتراک سے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کے نوجوان انجینئرز، سائنسدان اور آئی ٹی ماہرین عالمی خلائی صنعت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پروفیسر احسن اقبال نے امریکی ایرو سپیس کمپنیوں کو پاکستان میں ڈویلپمنٹ سینٹرز قائم کرنے اور نوجوان ٹیلنٹ سے استفادہ کی دعوت دی۔ ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے ناسا کے تجربات، تربیت اور علمی تعاون سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں،پاکستان کا ہدف 2035 تک چاند پر قومی مشن بھیجنا اور 2047 تک قمری موجودگی قائم کرنا ہے، پاکستان کا سپیس وژن صرف خلائی مشن نہیں بلکہ علم، تحقیق اور جدت پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھنے کی قومی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس، اختراع اور عالمی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں، پاکستان کے خلائی پروگرام کو عالمی شراکت داری، جدید تحقیق اور نوجوان افرادی قوت کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا، خلائی سائنس سے بچوں کو روشناس کرانا مستقبل کے سائنسدان، محقق اور موجد تیار کرنے میں سرمایہ کاری ہے جبکہ ناسا اور امریکی صنعت کے ساتھ تعاون سے پاکستان میں سائنس، اور خلائی تعلیم کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان امریکا تعلقات کا نیا رخ تعلیم، موسمیاتی تعاون، سائنسی تحقیق، اختراع اور خلائی ٹیکنالوجی پر استوار ہونا چاہئے، پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو جیوپولیٹکس سے آگے بڑھا کر جیو اکنامکس، سائنس اور ٹیکنالوجی شراکت داری تک وسعت دینا ہوگی۔