اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، لبنان

لبنان نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے فیصلے پر قائم ہے اور اس حوالے سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

بیروت ۔11جولائی (اے پی پی):لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس راستے پر کی جانے والی تنقید جواب کی مستحق نہیں ہے۔

العربیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ تنقید لبنانی معاملے کو دوبارہ ایران کے ہاتھ میں ایک کارڈ بنانے کی خواہش سے پیدا ہو رہی ہے۔جوزف عون نے آج لبنانی فورسز پارٹی کے سربراہ سمیر جعجع کی قیادت میں "مستحکم جمہوریہ” پارلیمانی بلاک کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے مذاکرات کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، میں اس بات پر بضد ہوں کہ میرے تمام موقف میں لبنانی عوام کے لیے اس راستے کی اہمیت کے بارے میں وضاحتیں شامل ہوں جس پر ہم چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا لبنان ان تمام اقدامات میں اپنی خودمختاری پر قائم رہے گا جو ہم اٹھا رہے ہیں۔صدر جوزف عون نے اس فریم ورک فارمولے کا ذکر کیا جس پر لبنان نے اسرائیل کے ساتھ دستخط کیے ہیں اور اسے ایک ایسا فارمولا قرار دیا جو سفارتی طریقوں سے لبنان کے حقوق واپس دلائے گا بشرطیکہ اسرائیل اس کی شقوں پر عمل کرے اور اس کا نفاذ کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملات یکے بعد دیگرے حل ہونے کے مراحل میں ہیں اور اس راستے کو نشانہ بنانے والی تمام تنقید لبنانی معاملے کو دوبارہ ایران کے ہاتھ میں ایک کارڈ بنانے کی خواہش سے پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے پاس ان فوائد کو حاصل کرنے کا ایک موقع ہے جو ہم نے ایک فضول جنگ کے نتیجے میں کھو دیے تھے، خاص طور پر لبنان میں موجودہ امریکی دلچسپی کے فروغ اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی امریکہ کی صلاحیت کے پیش نظر تاکہ وہ اس کی طرف سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کو دور کر سکے۔ جوزف عون نے کہا کہ انہوں نے ایک مشکل انتخاب کیا ہے اور طاقت کے توازن، اسرائیلی حساب کتاب، ایرانی-امریکی صورتحال اور دیگر پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کا راستہ ہموار نہیں ہے۔

مزید خبریں