اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں، مکانات کی مسماری اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث فلسطینیوں کی بے دخلی اور انسانی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے فلسطینیوں کی بے دخلی میں اضافہ ہوا ہے ، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔11جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، نقل و حرکت پر بڑھتی پابندیوں، مکانات کی مسماری، یہودی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث فلسطینیوں کی بے دخلی اور مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں مزید فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو رہے ہیں، ان کے تحفظ کو خطرات لاحق ہیں اور رہائش، روزگار اور بنیادی سہولیات تک رسائی مزید محدود ہوتی جا رہی ہے۔ادارے نے بتایا کہ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک مکانات کی مسماری کے باعث 67 فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً دو درجن عمارتیں منہدم کی جا چکی ہیں، جن میں ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے عطیہ دہندگان کے تعاون سے تعمیر کی گئی دو عمارتیں بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تعمیرات اجازت نامے کے بغیر کی گئی تھیں، تاہم فلسطینیوں کے لیے ایسے اجازت نامے حاصل کرنا انتہائی مشکل قرار دیا جاتا ہے۔او سی ایچ اے کے مطابق رواں سال اب تک آبادکاروں کے حملوں اور تعمیراتی اجازت ناموں کی عدم موجودگی کی بنیاد پر کی گئی مسماریوں کے نتیجے میں 3 ہزار 200 سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جو اوسطاً روزانہ 17 افراد بنتے ہیں۔ یہ شرح گزشتہ تین برسوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ادارے نے بتایا کہ انسانی امدادی تنظیمیں متاثرہ افراد کو مسلسل امداد فراہم کر رہی ہیں۔ سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران یروشلم گورنری میں بچوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے شراکت داروں نے 5 ہزار 300 سے زائد بچوں اور ایک ہزار 670 سرپرستوں کو نفسیاتی معاونت، والدین کی رہنمائی، ہنگامی امداد اور دیگر خدمات فراہم کیں۔مشرقی بیت المقدس سمیت پورے مغربی کنارے میں تعلیمی شعبے کے شراکت داروں نے تقریباً 60 ہزار بچوں کو تعلیمی کمی پوری کرنے اور اضافی تدریسی پروگراموں سے مستفید کیا، جبکہ 32 اسکولوں میں ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا کام بھی مکمل کیا گیا۔او سی ایچ اے نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار غزہ میں طویل عرصے سے بے گھر افراد کی مدد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادارے کے مطابق ورلڈ سینٹرل کچن نے بدھ کے روز بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے اس کے ایک لاجسٹک شراکت دار کے ڈرائیور کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ کرم شالوم (کرم ابو سالم) سرحدی گزرگاہ سے غزہ میں تنظیم کے گودام تک امدادی سامان منتقل کر رہا تھا۔ تنظیم نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔او سی ایچ اے نے مزید کہا کہ غزہ میں متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ بدستور تشویش کا باعث ہے۔ گزشتہ ہفتے طبی شراکت داروں نے غزہ کے 200 سے زائد مراکز پر 2 لاکھ 43 ہزار سے زیادہ طبی مشورے اور علاج کی خدمات فراہم کیں۔ سانس کی شدید بیماریاں اور جلدی امراض سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والی بیماریاں ہیں، جبکہ خصوصاً خان یونس میں آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے چکن پاکس، جلدی پرجیوی امراض اور بیکٹیریا سے ہونے والے جلدی انفیکشن (امپیٹیگو) کے 18 ہزار سے زائد نئے کیسز بھی سامنے آئے، جبکہ ایندھن، جنریٹر آئل، اسپیئر پارٹس اور طبی سامان کی قلت یا بڑھتی لاگت کے باعث طبی خدمات کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے








