آبادی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی یوم آبادی پر پیغام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافہ ملک کی معاشی منصوبہ بندی، تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت اور معاشرے کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آبادی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کاوشوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافہ معاشی منصوبہ بندی، روزگار کی فراہمی، تعلیم، صحت، رہائش، غذائی تحفظ، بنیادی شہری ڈھانچے کی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا باعث ہے۔

آج (ہفتہ کو) منائے جانے والے عالمی یوم آبادی پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج عالمی یوم آبادی پر اقوام عالم کے ساتھ ہم آواز ہو کر آبادی کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی ضامن ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ آبادی کی ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ منصوبہ سازی اور نظم و نسق ہی فلاحی معاشرہ کی بنیاد ہے، وسائل سے متناسب آبادی سہولیات کی منصفانہ تقسیم اور خوشحال عوام کی ضمانت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر آبادی کے موضوع پر مختص یہ دن اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اس سال یہ عالمی دن ’’نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو آج اور مستقبل میں حقیقت بنانا‘‘ کے زیرعنوان منایا جا رہا ہے، یہ موضوع اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خوشحال مستقبل کی تشکیل میں نوجوان مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، نئی نسل کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور نمایاں نوجوان آبادی کے تناسب کی وجہ سے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے، مجموعی ملکی آبادی کا پینسٹھ فیصد سے زائد حصہ تیس برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو ایک قیمتی قومی سرمایہ اور معاشی و سماجی ترقی کا مضبوط محرک ہے تاہم آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافہ معاشی منصوبہ بندی، روزگار کی فراہمی، تعلیم، صحت، رہائش، غذائی تحفظ، بنیادی شہری ڈھانچے کی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے بڑے چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان آبادی کی استعداد سے بھرپور استفادہ اور مثبت ثمرات کے لیےدستیاب ملکی وسائل میں مسلسل سرمایہ کاری اور جامع حکمت عملی ناگزیر ہے تاکہ انسانی فلاح اور صلاحیتوں کی نشوو نما کو ترقی کے عمل کا محور بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی آبادی اور ترقی کے تناظر میں جامع اور موثر قومی حکمت عملی کی تشکیل کے لئے وفاقی حکومت کے زیر نگرانی قومی کونسل برائے آبادی قائم کی گئی ہے۔ آبادی کے لیے بہترین منصوبہ سازی کے لیے یہ اعلیٰ سطحی قومی فورم وفاقی اور صوبائی حکومتی پالیسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی روابط کو یقینی بنائے گا۔ یہ کونسل قومی آبادی پروگرام کے نفاذ کے لیے پالیسی رہنمائی کے ساتھ ساتھ قومی ترجیحات کے مطابق موثر عمل درآمد کے ضمن میں ضروری اور بر وقت فیصلہ سازی بھی کرے گی۔ علاوہ ازیں آبادی سے متعلق امور کی قومی ترقیاتی ایجنڈے میں موثر شمولیت، بااختیار خواتین، انسانی وسائل کی ترقی سمیت دیگر حقائق پر مبنی پہلوئوں کی پالیسی سازی اور طویل المدتی سماجی و معاشی خوشحالی کے لیے کام کونسل کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو باصلاحیت، ذمہ دار اور بااختیار شہری بنانے کے عظیم مقصد کے حصول کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام اور دیگر اہم قومی اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ تمام شہری بلا تفریق رنگ و نسل بالخصوص معاشرے کے کمزور طبقات سہولیات کی فراہمی اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ ایسے تمام طبقات بشمول خواتین اور بچیوں کی تعلیم، صحت، معاشی شمولیت اور مساوی مواقع حکومت کی ترجیح ہیں۔ وزیراعظم نے آبادی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کاوشوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں تمام متعلقہ اکائیوں بشمول وفاقی و صوبائی حکومت، اراکینِ پارلیمان، ترقیاتی شراکت دار، سول سوسائٹی، جامعات، نجی شعبہ، علمائے کرام، ذرائع ابلاغ اور مقامی برادریاں سے اپیل کرتا ہوں کہ آبادی کےمعاملے کی حساسیت کے مد نظر ہنگامی بنیادوں پر اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس کریں اور آبادی سے متعلق باخبر فیصلوں، ذمہ دارانہ پرورش، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی کے فروغ میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ اجتماعی عزم اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ہم ایسا ماحول یقینی بنا سکتے ہیں جہاں ہر شہری کو صحت مند، باوقار اور باصلاحیت زندگی گزارنے کے یکساں مواقع میسر ہوں، مشترکہ کوششوں سے ہم ملکی آبادیاتی صلاحیت کو دیرپا قومی قوت میں بدل سکتے ہیں اور موجودہ و آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔