پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آباد ی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہم آہنگ اقدامات کی ضرورت ہے، شیری رحمان

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معیشت، وسائل اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہم آہنگ اقدامات کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معیشت، وسائل اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہم آہنگ اقدامات کی ضرورت ہے۔عالمی یوم آبادی کے موقع پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ عالمی آبادی 8ارب 20 کروڑجبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ آبادی کی شرح نمو 2.55 فیصد ہے جبکہ ملک کی فرٹیلیٹی کی شرح 3.6 تک پہنچ گئی ہے جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔

اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، اس لیے بروقت منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی پانی کے وسائل، غذائی تحفظ، صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے مواقع پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آبادی کا مسئلہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے بہتر معیارِ زندگی اور بنیادی خدمات تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کا بھی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی کو قومی بجٹ، معاشی منصوبہ بندی اور ترقیاتی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ آبادی کی نمو کو موثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔

سماجی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں، جبکہ ملک کی تقریباً 42 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اس کے باوجود کہ قومی وسائل محدود ہیں اور بڑے خاندانوں کا رجحان عام ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی کی نمو صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر خاندان اور پوری قوم کی فکر ہے،جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر پڑیں گے۔انہوں نےکہا کہ پاکستان میں اوسطاً ہر جوڑے کے ایک بچہ غیر متوقع ہوتا ہے، جس سے خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات اور معیاری صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

غذائی عدم تحفظ کے حوالے سےانہوں نے کہا کہ 2025 میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور خبردار کیا کہ غیر کنٹرول شدہ آبادی کی نمو اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گی۔انہوں نے تاکید کی کہ آبادی کی نمو کو کنٹرول کرنا موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے ۔ انہوں نے پارلیمان، صوبائی حکومتوں، مذہبی علما، اساتذہ، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ مل کر عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کریں۔شیری رحمان نے کہا کہ موثر منصوبہ بندی، لوگوں میں زیادہ سرمایہ کاری اور درست پالیسی سازی کے ذریعے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو بوجھ کی بجائے قومی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں