بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ،جنوبی پنجاب کا صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ خطرے میں

ماہرین کے مطابق دریا جنوبی پنجاب سمیت مختلف خطوں کی تہذیب، ثقافت اور معیشت کی بنیاد ہیں، تاہم پانی کی بڑھتی قلت نہ صرف زراعت بلکہ لوک ورثے، روایتی پیشوں اور ثقافتی شناخت کے لیے بھی سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

ملتان۔ 12 جولائی (اے پی پی):دریا تہذیبوں کی بنیاد، روایات کی پہچان اور جنوبی پنجاب سمیت دیگر علاقوں کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں، دریاؤں نے صرف کھیتوں کو ہی سیراب نہیں کیا بلکہ میلوں، لوک موسیقی، روایتی پیشوں، دیہی رسوم اور اجتماعی زندگی کو بھی پروان چڑھایا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کے باعث بڑھتی ہوئی پانی کی قلت نہ صرف زراعت بلکہ خطے کے زندہ ثقافتی ورثے کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہے۔

پاکستانی ماہرین پروفیسر نبیل اکرم، سجاد چٹھہ، عامر حمزہ اور دیگر کا کہنا ہے کہ اس تشویش کی متعدد وجوہات ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلیاں، پانی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور سندھ طاس معاہدہ کے تحت دریا کے بہاؤ میں کمی شامل ہے۔ طویل آبی قلت ان روایات کو بتدریج ختم کر سکتی ہے جو نسلوں سے چلی آ رہی ہیں۔جنوبی پنجاب کی کئی ثقافتی سرگرمیاں براہِ راست زرعی کیلنڈر اور پانی کی دستیابی سے جڑی ہوئی ہیں۔ موسمی گاؤں کے میلے، فصل کی کٹائی کی تقریبات، جھومر اور گھوڑا ڈانس، دریاؤں اور زرخیز زمینوں کی تعریف میں گائے جانے والے سرائیکی لوک گیت اور بیجائی و کٹائی کے موقع پر ہونے والی اجتماعی محفلیں عوام اور پانی کے گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔روایتی پیشے بھی دریاؤں کے نظام پر منحصر ہیں۔ ماہی گیر برادریاں، کشتی ساز، سرکنڈوں اور دریائی گھاس سے دستکاری کرنے والے کاریگر اور دریائی جنگلات کے گرد آباد خاندان نسلوں سے دریائے سندھ پر انحصار کر رہے ہیں۔ دریا کے بہاؤ میں کمی سے ان روزگاروں کے ساتھ ساتھ ان سے جڑا ثقافتی علم بھی خطرے سے دوچار ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق پانی کی قلت دریائی جنگلات کو بھی متاثر کر رہی ہے جو تاریخی طور پر جنگلی حیات، شہد جمع کرنے، دوا ساز پودوں اور مقامی دستکاری کا ذریعہ رہے ہیں۔ ان ماحولیاتی نظاموں کے بتدریج ختم ہونے سے وہ روایات بھی ماند پڑ رہی ہیں جو جنوبی پنجاب کے ثقافتی منظر نامے کا اہم حصہ ہیں۔زرعی ماہر خالد محمود چوہدری کا کہنا ہے کہ پانی صرف معاشی وسیلہ نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی ثقافتی شناخت دریاؤں اور آبپاشی کے نظام کے گرد پروان چڑھی ہے۔ ہماری لوک موسیقی، گاؤں کے میلے، روایتی رقص، دستکاری اور دیہی رسوم سب اسی رشتے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر پانی کی قلت برقرار رہی تو ہم نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ ایک انمول ثقافتی ورثہ بھی کھو دیں گے جس کی تلافی ممکن نہیں ۔زرعی ماہر ملک احمد نواز نے کہا کہ مقامی روایات کے تحفظ کے لیے آبی وسائل کا تحفظ ناگزیر ہے۔ جہاں پانی ختم ہوتا ہے وہاں ثقافت بھی ختم ہونے لگتی ہے۔ روایتی ماہی گیر، گاؤں کے میلے، فصل کی تقریبات، لوک پرفارمنس اور دریائے سندھ سے جڑا مقامی علم سب دباؤ کا شکار ہیں۔ آبی وسائل کا تحفظ دراصل جنوبی پنجاب کے زندہ ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔تمام ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ پاکستان کے آبی وسائل کا تحفظ ماحولیاتی اور زرعی ترجیح ہونے کے ساتھ ایک ثقافتی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے تحفظ اور پائیدار آبی انتظام سے ہی ان روایات، لوک کہانیوں، دیہی طرزِ زندگی اور اجتماعی اقدار کو بچایا جا سکتا ہے جنہوں نے صدیوں سے جنوبی پنجاب کی شناخت تشکیل دی ہے