سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سی ای او ڈاکٹر ایمن غلام نے کہا ہے کہ سینٹر نے ایسے ڈیجیٹل ماڈلز تیار کیے ہیں جو دس دن پہلے تک سعودی عرب کے موسم کی پیشنگوئی کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب کے محکمہ موسمیات کا جدید ڈیجیٹل ماڈلز کے ذریعے موسم کی پیشنگوئی کا آغاز

مزید خبریں
ریاض۔15جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سی ای او ڈاکٹر ایمن غلام نے کہا ہے کہ سینٹر نے ایسے ڈیجیٹل ماڈلز تیار کیے ہیں جو دس دن پہلے تک سعودی عرب کے موسم کی پیشنگوئی کر سکتے ہیں۔
اس پیش گوئی کی درستگی 1.6 کلومیٹر تک ہے جو ابتدائی انتباہی نظام کی کارکردگی کو بڑھانے اور اہم شعبوں میں بروقت فیصلہ سازی میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سعودی عرب میں موسم کی پیش گوئی اب روایتی فضائی نقشوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ایسے جدید تکنیکی نظام پر مبنی ہے جو انتہائی درستگی کے ساتھ کرہ فضائی کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کرتی ہے اور کئی دن پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی اطلاع فراہم کر دیتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سینٹر خلائی موسم کے لیے بھی خصوصی ماڈلز تیار کر رہا ہے جن کا مقصد سورج کی سرگرمیوں اور ان کے اثرات کی نگرانی کرنا ہے جیسے کہ شمسی ہوائیں ، مقناطیسی طوفان جو مصنوعی سیاروں، مواصلاتی نظام، نیویگیشن اور بجلی کے گرڈز کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ماڈلز متعلقہ حکام کو ابتدائی انتباہ جاری کرتے ہیں جس سے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انوہں نے کہا کہ سینٹر روایتی اور طبیعیاتی عددی ماڈلز چلاتا ہے جو دس دن تک کی پیشنگوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ عمل زمینی سٹیشنوں، مصنوعی سیاروں، راڈارز اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجیز سے ڈیٹا اکٹھا کر کے شروع ہوتا ہے، جسے عالمی نیٹ ورکس سے ملایا جاتا ہے اور پھر سینٹر کے سپر کمپیوٹرز کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے۔ یہ معلومات ہوا بازی، شہری دفاع، بلدیات اور نجی شعبے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سینٹر سمندری ماڈلنگ جیسی خدمات بھی فراہم کرتا ہے جو دس دن پہلے تک سمندری پانی کے درجہ حرارت، نمکیات، مدو جزر کی نقل و حرکت اور لہروں کی اونچائی کی پیش گوئی کرتی ہیں، جس سے جہاز رانی اور سمندری سرگرمیوں کی حفاظت یقینی بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹر ان اعداد و شمار کو موسم کے ڈیٹا کے ساتھ ملا کر تیل کے رساؤ کے راستوں کی پیش گوئی کرنے کے لیے ایک قومی ماڈل بھی تیار کر رہا ہے۔ یہ اقدام سمندری ماحول کے تحفظ اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام ماڈلز سینٹر کے اپنے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کے اندر پروسیس کیے گئے انتہائی درست مقامی ڈیٹا پر کام کرتے ہیں۔ ان کی معلومات سے بارڈر گارڈز، بندرگاہیں، سیاحتی شعبہ اور دیگر سرکاری و نجی ادارے مستفید ہو رہے ہیں۔








