تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ ہے ،وفاقی وزیرِ صحت

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، ایک ڈاکٹر جہاں روزانہ محدود تعداد میں مریضوں کا علاج کر سکتا ہے، وہاں اسے کئی گنا زیادہ مریضوں کو دیکھنا پڑتا ہے

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، ایک ڈاکٹر جہاں روزانہ محدود تعداد میں مریضوں کا علاج کر سکتا ہے، وہاں اسے کئی گنا زیادہ مریضوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم آبادی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قرآنِ مجید میں ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے برابر قرار دیا گیا ہے، اس لیے آبادی کے مسئلے پر علما، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر عوام میں درست شعور اجاگر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رزق دینا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے، تاہم والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی صحت، وسائل اور بچوں کے بہتر مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ فیصلے کریں۔مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں حمل یا زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حمل کوئی بیماری نہیں، لیکن مناسب طبی سہولیات اور بروقت نگہداشت کے ذریعے زچگی کے دوران اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہر ماں کی جان بچانا قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر سال چار لاکھ سے زائد کم عمر بچے قابلِ تدارک وجوہات کی بنا پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ صحت کی سہولیات، ادویات اور بروقت علاج تک رسائی نہ ہونے سے ہزاروں خاندان ناقابلِ تلافی نقصان اٹھاتے ہیں۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ آبادی میں مناسب وقفہ، ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ اور خاندانی منصوبہ بندی صرف صحت کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت اور مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پہلے ہی تقریباً دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ ملک کی 43 فیصد آبادی بچوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس چیلنج پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو ملک کی ترقی کی رفتار متاثر ہوگی۔ انہوں نے ایران، بنگلہ دیش اور بھارت سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر پالیسیوں کے ذریعے آبادی کے چیلنج سے کامیابی سے نمٹا جا سکتا ہے۔مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ آبادی کا مسئلہ کسی ایک طبقے یا مخصوص سوچ کے خلاف نہیں بلکہ ایک قومی اور معاشی مسئلہ ہے، جس کا حل متوازن اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آبادی میں مناسب وقفہ اختیار کرنے والے خاندانوں کے لیے مراعات اور ترغیبات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں مانع حمل ادویات اور اشیاء پر 18 فیصد ٹیکس عائد تھا، جس سے یہ مصنوعات مہنگی ہو گئی تھیں اور عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی تھیں۔ ان کے مطابق تقریباً 30 فیصد ایسے خاندان موجود ہیں جو بچوں کی پیدائش میں وقفہ چاہتے ہیں، مگر سہولیات یا استطاعت نہ ہونے کے باعث ایسا نہیں کر پاتے۔ انہوں نے کہا کہ مانع حمل اشیاء پر ٹیکس کے خاتمے سے آباد ی میں سالانہ اضافے میں 15 لاکھ تک کمی لائی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ حکومت نے مانع حمل اشیاء پر عائد ٹیکس کو صفر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ مصنوعات سستی ہوں گی، عوام کی رسائی میں اضافہ ہوگا، مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے مہمانِوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مصروفیات کے باوجود تقریب میں شرکت کی، جس پر وہ اور تمام شرکاء ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام قومی ادارے مل کر پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے آبادی اور صحت کے شعبے میں مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

مزید خبریں