نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں میں عوامی سہولیات کیلئے مختص اراضی کا کمرشل استعمال نہیں کیا جا سکتا،عدالت

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں میں اسکولوں، پارکوں، مساجد اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص اراضی کو کمرشل یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور۔16جولائی (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں میں اسکولوں، پارکوں، مساجد اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص اراضی کو کمرشل یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ایل ڈی اے کو اسکول کے لیے مختص اراضی تین ماہ کے اندر قانون کے مطابق الاٹ، لیز یا نیلام کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اراضی صرف اسکول کے قیام اور عوامی مفاد کے لیے ہی استعمال ہوگی۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے 23 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ سہولتی اراضی عوامی امانت ہے اور ایل ڈی اے اسے من مانی طریقے سے استعمال نہیں کر سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر مستقبل میں ایل ڈی اے سہولتی اراضی کو اس کے اصل مقصد کے خلاف استعمال کرے تو اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کوآپریٹو ہاسنگ سوسائٹیوں کی رجسٹریشن انہیں ایل ڈی اے قوانین سے استثنا نہیں دیتی اور منصوبہ بندی و ترقی کے معاملات میں وہ بھی متعلقہ قوانین کی پابند ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق ہاوسنگ اسکیم کی منظوری کے لیے سہولتی اراضی ایل ڈی اے کو منتقل کرنا قانونی شرط تھی اور ایل ڈی اے بطور ریگولیٹر منظوری کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے کا اختیار رکھتا ہے۔عدالت نے ایل ڈی اے ایکٹ کی دفعہ 13(6) اور پرائیویٹ ہاوسنگ اسکیم رولز 2014 کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔