گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی خیبرپختونخوا کی ترقی ان کی اولین ترجیح ہے اور صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، توانائی، ہوابازی اور شہری سہولیات کے شعبوں میں متعدد اہم منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی ترقی اولین ترجیح ہے، گورنر خیبرپختونخوا

مزید خبریں
پشاور۔ 17 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی خیبرپختونخوا کی ترقی ان کی اولین ترجیح ہے اور صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، توانائی، ہوابازی اور شہری سہولیات کے شعبوں میں متعدد اہم منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔
ترجمان گورنر ہائوس پشاور کے مطابق انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے سینئر صحافی محمد ریحان سے گورنر ہائوس پشاور میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں الشفا آئی ٹرسٹ ہسپتال کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں الشفا آئی ٹرسٹ کے تعاون سے کوکار میں22جولائی سے تین روزہ مفت آئی کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں روزانہ تقریباً 100 مریضوں کا معائنہ، تشخیص اور علاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ گورنر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تعاون سے ایس آئی یو ٹی (SIUT) کے قیام پر بھی پیش رفت جاری ہے، جس سے گردوں اور دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کو کراچی سمیت دور دراز شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ ہسپتال کی اراضی کا حصول آخری مرحلہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبہ جنوبی خیبرپختونخوا کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے، یہ منصوبہ پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے بورڈ کی منظوری کے مرحلہ میں ہے، اسی طرح موجودہ ڈیرہ اسماعیل خان ایئرپورٹ کے رن وے کو مکمل طور پر بحال کر کے اسے علاقائی فضائی آپریشن کے لیے فعال بنانے کے لئے بھی رابطے جاری ہیں۔
نئی ایئر لائن ساؤتھ ایئر کی جانب سے ابتدائی مرحلے میں ڈیرہ اسماعیل خان، چترال ایئر پورٹ کوئٹہ، پشاور اور لاہور کے لیے پروازیں بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ گورنر نے کہا کہ سعودی ایئرلائنز کا دفتر پشاور میں قائم ہوچکا ہے، پشاور مدینہ منورہ فلائٹس اور خیبرپختونخوا کو روڈ ٹو مکہ منصوبے میں پشاور کے زریعے شامل کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام سے رابطے جاری ہیں۔ تعلیم اور نوجوانوں کی استعداد کار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ اور گومل یونیورسٹی کے تعاون سے نوجوانوں کے لیے 3 ماہ کے آئی ٹی کورسز شروع کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جن میں کامیاب شرکا کو غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو کنال اراضی نادرا کمپلیکس کے لیے مختص کی جا چکی ہے جبکہ ڈیرہ میں نادرا زون کے قیام اور جنوبی اضلاع میں نادرا سہولیات کی مزید توسیع کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
اس کے علاوہ نادرا مراکز میں پاسپورٹ کائونٹرز کے قیام سے شہریوں کو ایک ہی جگہ متعدد سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ بند کورائی گرڈ سٹیشن کا ٹرانسفارمر نصب ہو چکا ہے اور اس کا افتتاح جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ گرڈ سٹیشن نمبر 2 پر نئے ٹرانسفارمر کی تنصیب سے کم وولٹیج اور ٹرپنگ کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم بعض مقامات پر بجلی کی نئی لائنوں کی تنصیب عدالتی اسٹے آرڈرز کی وجہ سے متاثر ہے۔ اگر مقامی لوگ تعاون کریں اور قانونی رکاوٹیں دور ہوں تو منصوبے بروقت مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے مقامی آبادی کے خدشات کو دور کرنے کے لئے گورنر ہائوس کا تعاون موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو سہولیات دینا چاہتی ہے اس لیے ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹیں نہیں آنی چاہئیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تین ماہ کے اندر دوسری ٹرانسمیشن لائن مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ متبادل بجلی کی لائن بچھانے پر بھی کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں بجلی کی فراہمی مزید مستحکم اور بلا تعطل بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی خیبرپختونخوا کے عوام سے کیے گئے تمام ترقیاتی وعدے مرحلہ وار پورے کیے جائیں گے اور ڈیرہ اسماعیل خان کو صحت، تعلیم، توانائی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کا ایک جدید علاقائی مرکز بنایا جائے گا۔








